کتاب: تحریف النصوص ( حصہ اول ) - صفحہ 156
قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر زمین میں ہوتی ہے جسے ارضی قبر کہتے ہیں اور کسی فرضی (برزخی) قبر کا قرآن و حدیث میں کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ لیکن موصوف اس بات پر مصر ہیں کہ قبر برزخ میں ہوتی ہے اس سلسلہ میں جب ہم نے تحقیق کی تو اس کی ایک دلیل مل گئی اور معلوم ہوا کہ برزخ میں قبر کا تصور شیعوں کے ہاں پایا جاتا ہے چنانچہ:
عکس
(فوٹو الفروع من الکافی ج۳ ص۲۴۲ طبع تہران)
عمرو بن یزید کا بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے تمام شیعہ جنت میں ہیں۔ المختصر یہ کہ امام صاحب نے فرمایا کہ جنت میں تمام شیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی وجہ سے جائیں گے لیکن اللہ کی قسم میں تمہارے حال پر ڈرتا ہوں، برزخ میں۔ عرض کیا: برزخ کیا ہے؟ فرمایا: ’’وہ قبر ہے جو موت کے وقت سے لے کر قیامت کے دن تک ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ برزخ میں قبر کا تصور ملت جعفریہ کے ہاں پایا جاتا ہے جسے ڈاکٹر موصوف نے وہاں سے اسمگل کر کے عام مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی ہے اور برزخی قبر کو نہ ماننے والوں کو کافر قرار دے دیا۔ غور کیجئے کہ شیعیت کے لئے کیسے کیسے ہاتھ کام کر رہے ہیں؟ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
واضح رہے کہ دنیاوی قبر، دنیاوی جسم، برزخی قبر اور برزخی جسم کی اصطلاحات موصوف کی ایجاد کردہ ہیں اور ان سے جہاں قرآن و حدیث کا صاف انکار لازم آتا ہے وہاں یہ اصطلاحات بدعات کے زمرے میں بھی آتی ہیں۔ اور انہیں ہم عثمانی بدعات کہہ سکتے ہیں