کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 97
مُّؤْمِنِیْنَ وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّ لَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ} ’’اے ایمان والو! تمھارے پیش رَو اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تمھارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، انھیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست و رفیق نہ بناؤ، اگر تم سچّے مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو، تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اسے ہنسی کھیل ٹھہرا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی اذان کی آواز سُن کر اس کی نقلیں اتارتے اور اس پر آوازے کَستے ہیں، جو محض ان کی بے عقلی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ مذہبی اختلافات کے باوجود آخر کون معقول آدمی یہ پسند کرسکتا ہے کہ جب کوئی گروہ اللہ کی عبادت کے لیے منادی کرے تو ایسی خفیف حرکات سے اس کا مذاق اُڑایا جائے؟ [1] کفّار کا اذان کی آواز پر نقلیں اتارنا، آوازے کَسنا اور تمسخر کے لیے کچھ نہ کچھ کہنا محض خیال آرائی نہیں، بلکہ عین حقیقت ہے، جیسا کہ حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اور دوسرے مفسّرین نے اپنی تفسیر میں ایک نصرانی اور آگے چل کر ابو سفیان بن حرب، عتاب بن اسید اورحارث بن ہشام کے واقعات نقل کیے ہیں۔ [2] امام شوکانی رحمہ اللہ نے تو ا پنی تفسیر ’’فتح القدیر‘‘ میں لکھا ہے : ’’اس آیت کی رو سے اُن اہلِ بدعت سے دوستی رکھنا بھی حرام ہے، جنھوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے، کیوں کہ ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہے تو لازماً ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہلِ کتاب کا ہے۔‘‘ [3] 5۔ سورۃ التوبہ (آیت: ۲۳) میں تو اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کسی کے ماں باپ اور بھائی بہن بھی کفر پر مُصِرّ ہوں تو ان کے ساتھ بھی دِلی محبت کا تعلّق نہیں رہنا چاہیے۔ ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآئَ کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ} [1] تفہیم القرآن بتصرّف (۱/ ۴۸۳) [2] دیکھیں: تفسیر ابن کثیر اُردو (۱/ ۸۱۶) زاد المسیر (۲/ ۳۸۵۔ ۳۸۶) تفسیر القرطبي (۳/ ۶/ ۲۲۴) [3] فوائد سلفیۃ المسمّی بہ أشرف الحواشی مولانا محمد عبدۃ الفلاح (ص: ۱۴۲)