کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 91
4۔چوتھی دلیل: نجسِ عین قرار دینے والوں کی چوتھی دلیل وہ واقعہ ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو ثقیف کا وفد مسجد میں بٹھایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ یہ تو نجس لوگ ہیں۔ اس پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس قول کو برقرار رکھا، ان کی تردید نہیں کی تھی۔ جائزہ: اس سلسلے میں عرض ہے کہ اگر اس واقعے اور اس موقع پر نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد فرمائے ہُوئے الفاظ پر غور کیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ وہ واقعہ نجس کہنے والوں کی دلیل بننا تو کُجا، وہ تو ان کے خلاف دلیل بنتا ہے اور وہ یوں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: (( قَوْمٌ أَنْجَاسٌ )) ’’ یہ نجس قوم کے لوگ ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَیْسَ عَلَیٰ الْأَرْضِ مِنْ أَنْجَاسِ الْقَوْمِ شَيْئٌ، إِنَّمَا أَنْجَاسُ الْقَوْمِ عَلَیٰ أَنْفُسِہِمْ )) ’’قوم کی نجاست میں سے زمین پر کوئی چیز واقع نہیں ہو رہی ،بلکہ ان کی نجاست ان کے اپنے آپ پر ہی واقع ہورہی ہے۔‘‘ ان الفاظ پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نجاست کو ظاہری و حسّی قرار نہیں دیا کہ جو زمین کو متاثر کرے اور صحنِ مسجد کو نجس کرنے کا باعث ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی نجاست ان کے نفسوں ہی پر ہے، یعنی نجاست ان کے عقائد و اعمال کی نجاست ہے، جسے معنوی و اعتقادی نجاست کہا جاسکتا ہے، ظاہری و حسّی نہیں۔ 3۔تیسرا قول: کفّار و مشرکین کے جُھوٹے کے سلسلے میں تیسرا قول یہ ہے کہ وہ مکروہ ہے اور بظاہر اس کے مکروہ ہونے کی رائے محض اس لیے ہے کہ ان کے جُھوٹے کے پاک اور ناپاک ہونے میں دلائل متعارض ہیں اور اس تعارضِ ادلّہ کے پیشِ نظر بعض اہلِ علم نے اسے حرام کہا نہ حلال بلکہ پاک اور ناپاک کے درمیانی درجے کو اختیار کرتے ہُوئے مکروہ قرار دے دیا ہے۔