کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 89
جائزہ: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اکثر علماے اصول کے نزدیک مفہومِ مخالف شرعی حجت و دلیل نہیں بن سکتا اور شروحِ حدیث میں اس کا جواب جمہور اہلِ علم کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ اس حدیث شریف سے مراد یہ ہے کہ مومن و مسلم نجاست سے احتراز و اجتناب کا عادی ہونے کی وجہ سے طاہر الاعضاء ہوتا ہے، مگر اس کے برعکس مشرک نجاستوں سے اتنا پرہیز نہیں کرتے، جتنا کہ مومن و مسلمان کی شان ہے، لہٰذا وہ اس عدمِ تحفظ کے اعتبار سے ان معنوں میں نجس ہیں اور درحقیقت وہ معنوی و اعتقادی طور پر ہی نجس ہیں، حسّی و جسمانی طور پر نہیں۔ آگے اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے جواز کو اپنے اس جواب کی تقویت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ دلیلِ اوّل و دوم یعنی مذکورہ آیت اور مفہومِ حدیث کا جمہور نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ یہاں کفّار و مشرکین کے عقائد و اعمال کی وجہ سے ان سے نفرت دلائی گئی ہے اور مجازی طور پر انھیں نجس کہا گیا ہے، اس کے مجاز ہونے کا قرینہ یہ ہے کہ صحیحین میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرک عورت کے مشکیزے سے وضو کرنا، یمامہ کے مشرک سردار ثمامہ بن اثال کو مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ستون سے باندھنا اور خیبر کی یہودیہ عورت کی زہر آلود بکری کا گوشت کھانا ثابت ہے۔ سنن ابی داود اور مسند احمد میں بلادِ نصاریٰ سے لائے گئے پنیر کا کھانا، ایک یہودی کی دعوت پر جَو کی روٹی اور بدلی ہوئی ہوا والا سالن کھانا بھی ثابت ہے اور مسلمان کے لیے کتابیہ سے نکاح مباح ہے، جو ان کے نجسِ عین نہ ہونے، بلکہ انھیں مجازی طور پر نجس کہے جانے کا قرینہ ہیں۔ [1] 3۔تیسری دلیل: ان کی تیسری دلیل صحیح بخاری و مسلم، سنن ابی داود و ترمذی اور مسند احمد میں مذکور وہ حدیث ہے، جس میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیں؟ تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر تمھیں دوسرے برتن مِل جائیں، تو ان میں نہ کھاؤ پیو اور اگر دوسرے برتن نہ ملیں تو کھا پی لو، مگر انھیں پہلے دھو لو۔ [1] نیل الأوطار (۱/ ۲۱)