کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 87
دوسرے دونوں اقوال میں انھیں نجسِ عین قرار نہیں دیا گیا۔ [1] ’’تفسیر جلالین (علیٰ ہامش المصحف، آیۃ التوبۃ، آیت: ۲۴)‘‘ میں بھی یہی مذکور ہے کہ مشرکین اپنی باطنی خباثت کے باعث نجس ہیں (ظاہری طور پر نہیں)۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اس آیت (۲۸) کا ترجمہ یوں فرمایا ہے: ’’مشرک لوگ (بوجہ عقائدِ خبیثہ) نِرے ناپاک ہیں۔‘‘ گویا ان کے نزدیک بھی مشرکین کی نجاست اعتقادی ہے، ظاہری نہیں۔ تفہیم القرآن میں لکھا ہے: ’’(مشرکین کے) ناپاک ہونے سے مُراد یہ نہیں ہے کہ وُہ خود ناپاک ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعتقادات، ان کے اخلاق، ان کے اعمال اور ان کے جاہلانہ طریقِ زندگی ناپاک ہیں۔‘‘ [2] ان تفسیری حوالوں کے علاوہ کتبِ فقہ اور شروحِ حدیث کا مطالعہ کریںتو بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نجاست سے اعتقادی نجاست ہی مراد ہے، چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے: ’’ جمہور علما کے نزدیک اس آیت سے مراد یہ ہے کہ مشرکین اپنے عقائد میں نجس ہیں۔ جمہورکی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کو مباح قرار دیا ہے اور ایسا مسلمان مرد اپنی کتابیہ بیوی کے پسینے سے نہیں بچ سکتا، مگر کتابیہ کا پسینہ لگنے سے کسی پر غسل واجب نہیں ہوتا، جو ان کے نجسِ عین نہ ہونے کی دلیل ہے۔‘‘ [3] ’’نیل الأوطار شرح منتقي الأخبار‘‘ میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے، ’’عون المعبود شرح أبي داود‘‘ میں علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے اور ’’تحفۃ الأحوذي شرح سنن الترمذي‘‘ میں علامہ عبدالرحمن مُبارک پوری رحمہ اللہ نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے مشرک سے مصافحہ کے بعد وضو کرنے کی رائے کو مشرکین سے ان کے بُعد و احتراز میں ایک مبالغہ آمیز فعل قرار دیا ہے۔ [4] [1] زاد المسیر امام ابن الجوزي (۳/ ۴۱۷) طبع بیروت۔ [2] تفہیم القرآن مولانا مودودي (۲/ ۱۸۷) طبع ادارہ ترجمان لاہور وترجمہ قرآن مولانا تھانوی، آیتِ مذکورہ۔ [3] مختصراً از فتح الباري (۱/ ۳۹۰) [4] عون المعبود شرح سنن أبي داود للعلامہ شمس الحق عظیم آبادي (۱/ ۹۲ و ۱/ ۲۸) طبع قدیم دہلی وملتان، تحفۃ الأحوذي شرح سنن الترمذي للعلامہ عبدالرحمن مبارکپوری طبع قدیم (۱/ ۱۱۶) نیل الأوطار (۱/ ۲۰)