کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 85
کہ مومن و مسلم کو چھوڑ کر تمام غیر مسلم اہلِ کتاب اور دیگر کفّار ومشرکین نجس و ناپاک ہیں اور ان کا جھوٹا بھی نجس و ناپاک ہے۔ 3۔ تیسری دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری ومسلم، سنن ابی داود و ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے، جس میں حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اہلِ کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھالیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اگر تمھیں دوسرے برتن ملیں تو ان برتنوں میں نہ کھاؤ اور اگر دوسرے نہ ملیں، تو پھر انھیں دھولو اور انھیں میں کھالو۔‘‘ سنن ابو داود اور مسند احمد کے الفاظ میں یہ بھی مذکور ہے کہ’’ وہ خنزیر کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔‘‘ اس حدیث سے یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نجس اور ناپاک سمجھا، اس لیے ان کے برتن دھو کر استعمال کرنے کا حکم فرمایا، لہٰذا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ انھیں نجسِ عین قرار دیتے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تو ان کے معاملے میں یہاں تک کہا کرتے تھے: ’’مَنْ صَافَحَہُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ‘‘ [1]’’جو شخص ان سے مصافحہ کرے تو وہ بعد میں وضو کرے۔‘‘ 4۔ ان کی چوتھی دلیل وہ واقعہ ہے کہ جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کے وفد کو مسجد میں بٹھایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا تھا: (( قَوْمٌ أَنْجَاسٌ )) [2] ’’یہ تو نجس لوگ ہیں۔‘‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس قول کی تردید نہیں کی تھی، جو اُن کے واقعی نجس ہونے کی دلیل ہے۔ دَورِ حاضر کے معروف عالم اور انجمن خدّام القرآن لاہور پاکستان کے مؤسِّس و امیر جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے دورۂ سعودی عرب کے دَوران میں ’’الخُبر‘‘ پاکستانی سکول میں قومی و ملّی مسائل پر گفتگو کی رپورٹ ۱۹؍ نومبر ۱۹۸۵؁ء کے نوائے وقت کراچی میں نشر ہوئی اور وہی رپورٹ نوائے وقت کے حوالے سے موصوف نے اپنے پرچہ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ لاہور کے شمارہ ماہ فروری ۱۹۸۶ء میں [1] تفسیر ابن کثیر (۲/ ۳۴۶) زاد المسیر (۳/ ۴۱۷) تفسیر القرطبي (۴/ ۸/ ۱۰۳) [2] نیل الأوطار (۱/ ۲۰)