کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 84
اگر کوئی کھاپی لیتا ہے تو یہ حرام بھی نہیں ہے اور یہ تب ہے جب برتنوں کی نجاستِ ظاہری کا علم نہ ہو، اگر ان میں نجاست لگی معلوم ہو جائے تو پھر انھیں دھوئے بغیر ان میں کھانا جائز نہیں۔ [1] 2۔دوسرا قول اور اس کے دلائل: غیر مسلم کے جُھوٹے کے بارے میں دوسرا قول بعض اہلِ ظاہر کا ہے کہ غیرمسلموں کا جُھوٹا ناپاک اور نجس ہے، حتیٰ کہ وہ خود بھی ناپاک اور نجس ہوتے ہیں۔ اُن کا استدلال ایک قرآنی آیت اور بعض احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے: 1۔ ان کی پہلی دلیل سورۃ التوبہ کی (آیت: ۲۸) ہے، جس میں ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا} ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بلاشبہہ مشرک ناپاک ہیں۔ پس اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکیں۔‘‘ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے مشرکین کے نجس و ناپاک ہونے اور ان کے جھوٹے کے بھی ناپاک ہونے کی دلیل لی گئی ہے۔ 2۔ اس قول والوں کی دوسری دلیل صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا منطوق نہیں، بلکہ مفہوم ہے، جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ یَنْجُسُ )) [2] ’’مومن نجس و ناپاک نہیں ہوتا۔‘‘ دوسری روایت میں ہے: (( إِنَّ الْمُسْلِمَ لاَ یَنْجُسُ )) [3]’’مسلمان ناپاک اور نجس نہیں ہوتا۔‘‘ کفّار و مشرکین کے جُھوٹے کو ناپاک کہنے والوں نے اس سے یُوں دلیل لی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ کبھی ناپاک و نجس نہیں ہوتا، تو اس کا مفہومِ مخالف یہ ہوا [1] الفتاوی الہندیۃ المعروف فتاویٰ عالمگیري (۵/ ۳۴۷) طبع مصر۔ [2] صحیح البخاري مع فتح الباري (۱/ ۴۶۶) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲/ ۴/ ۶۵) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲/ ۴/ ۶۵)