کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 83
(( سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ قُدُوْرِ الْمَجُوْسِ )) ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آتش پرست مجوسیوں کی ہنڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَنْقُوْہَا غَسْلاً وَاطْبَخُوْا فِیْہَا )) [1] ’’انھیں دھوکر صاف کرلو اور ان میں اپنا کھانا پکاؤ۔‘‘ 5۔ مسند احمد کا واقعہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ کفّار کے برتن میں کھانا کھایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ خود نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کی دعوت قبول کی، جس میں اس نے جَوکی روٹی اور بدلی ہوئی ہوا والا روغنی سالن تیار کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ بھی اس کی دلیل ہے کہ انھوں نے ایک عیسائی عورت کے برتن سے وضو کیا تھا۔ ان تمام واقعات سے غیر مسلموں کے برتنوں کے استعمال کا جواز نکلتا ہے۔ البتہ بعض اہلِ علم نے غیر اہلِ کتاب اور وہ اہلِ کتاب جو خنزیر کھاتے ہیں، ان کے برتنوں کو تو دھوئے بغیر استعمال کرنے سے مطلقاً منع کیا ہے اور جو اہلِ کتاب ایسا نہ کرتے ہوں، ان کے برتنوں کو دھوئے بغیر بھی استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، تاکہ دونوں طرح کی احادیث میں مطابقت پیدا ہوجائے۔ بعض علما کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ غیر مسلم چاہے کوئی ہو، ان کے برتنوں کو دھو لیا جائے۔ کیونکہ سنن ترمذی، نسائی، مسندِ احمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں حضرت حَسن رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد حفظ کیا ہے: (( دَعْ مَا یُرِیْبُکَ إِلَیٰ مَا لاَ یُرِیْبُکَ )) [2] ’’مشکوک چیز کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کر لو۔‘‘ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ مشرکین کے برتنوں میں انھیں دھوئے بغیر کھانا پینا مکروہ ہے، لیکن [1] صحیح البخاري مع فتح الباري (۹/ ۲۲۲۔ ۲۲۳) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۴۶۷) نیل الأوطار (۱/ ۲۱) [2] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۴۵) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۲۶۹) نیل الأوطار (۱/ ۲۲) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۳۷۷)