کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 81
اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب کفّار و مُشرکین کے برتنوں کا حکم 1۔پہلا قول اور اس کے دلائل: اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب کفّار و مشرکین کے برتنوں میں کھانا کھا لینے کی بھی شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔ کتاب اللہ اور کسی صحیح و صریح حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی حرمت ثابت نہیں ہے، بلکہ صحیح بخاری (کتاب الہبۃ، باب قبول الہدیۃ من المشرکین) میں چار احادیث ہیں، جن میں سے ایک میں وہ واقعہ بھی مذکور ہے، جو ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کی پیش کردہ زہر آلود بکری قبول کی اور اسے تناول فرمایا، نیز صحیح بخاری ومسلم میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک مشرکہ عورت کے مشکیزے سے وضو کیا۔ 2۔ سنن ابو داود اور مسند احمد اور اسی معنیٰ میں مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (( کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَنُصِیْبُ مِنْ آنِیَۃِ الْمُشْرِکِیْنَ وَأَسْقِیَتِہِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِہَا، فَلاَ یَعِیْبُ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ)) [1] ’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوات پر نکلا کرتے تھے اور اس دوران میں مشرکین کے کھانے اور پینے کے برتن ہمارے ہاتھ لگتے۔ ہم ان برتنوں کو استعمال میں لاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کوئی عیب نہیں لگاتے تھے۔‘‘ مسند بزار میں مروی ہے: (( فَنَغْسِلُہَا وَنَأْکُلُ فِیْہَا )) [2] ’’ہم انھیں دھوتے اور ان میں کھانا کھاتے۔‘‘ [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۲۵۱) نیل الأوطار (۱/ ۲۱) [2] فتح الباري (۹/ ۶۲۳)