کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 78
خود بھی بیوی کے عقیدے میں نہ بہہ جائے اور کہیں بچوں کو ایسی غیر اہلِ کتاب بیوی کی تربیت کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے نہ کھو دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت کے آخر میں یہ تنبیہ بھی فرما دی ہے: {وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ}[المائدۃ: ۵] ’’جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کر دیا تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ ان کلمات سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ کہیں یہودی یا عیسائی ’’میم‘‘ کی شادی کی خاطر دولتِ ایمان نہ کھو بیٹھنا اور معروف مترجمِ قرآن حضر ت محدث دہلوی رحمہ اللہ کے بقول اہلِ کتاب کو دوسرے کفار سے ان دو حکموں (کھانے اور نکاح) میں مخصوص کیا ہے، جو صرف دنیا کی حد تک ہے۔ آخرت میں دولتِ ایمان واسلام سے تہی دامن ہر کافر کا انجام بربادی ہے۔ یہیں یہ بات بھی ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی جو اجازت بخشی ہے اس کے ساتھ ہی چند شرائط بھی لگا دی ہیں کہ وہ محصنات یا محفوظ وپاک دامن ہوں، آوارہ نہ ہوں، ان سے حق مہر ادا کرکے نکاح کرنے میں ان کا محافظ بننا اصل غرض ہو، نہ کہ آزاد شہوت رانی کا ارادہ اور نہ چوری چُھپے آشنائیاں کرنے کا قصد ہو۔ ان شرائط کو پورا کرنے والا ان سے نکاح کرسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ پہلے آشنائیاں ہوں، خلوتِ محرمہ ہو، حتیٰ کہ جب پانی سر سے گزر جائے اور لڑکی کسی نئی رُوح کی آمد کی خبر دے کر نکاح کرنے کا مطالبہ کرے تو پھر اس آیت کا سہارا لے کر نکاح کا سوانگ رچایا جائے۔ اس آوارہ اور فحش انداز سے مذکورہ شرائط کہاں پُوری ہوسکتی ہیں اور وہ نکاح بھی کیا ہوگا؟ اَعَاذَناَ اللّٰہ ُمِنْہُ۔ سورۃ المائدہ کے بارے میں ابو میسرہ کا قول ہے: ’’یہ نزول کے اعتبار سے سب سے آخری سورت ہے اور اس میں مذکورہ احکام میں سے کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا۔ البتہ امام شعبی رحمہ اللہ کے نزدیک صرف {وَلَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْھَدْیَ} اور بعض کے