کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 74
سے پوچھا گیا: (( أَيُّ الْأَدْیَانِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ؟ )) ’’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا دین پسند ہے؟‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: (( اَلْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ )) ’’وہ دین جو حنیفیت و یکسوئی اور فراخی و وسعت والا ہے۔‘‘ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ دینِ اسلام اور اس کی وسعت والی تعلیمات کی طرف ہی تھا۔ یہ روایت بخاری شریف میں تعلیقاً، الادب المفرد اور مسند احمد (والزہد لأحمد، ص: ۲۸۹۔۲۹۰ مُرسلاً بسند صحیح) میں موصولاً مَروی ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس کی سَند کو حسن قرار دیا ہے، مگر اس کی سَند میں ایک راوی محمد بن اسحاق بھی ہیں، جو محدثین کے نزدیک مدلّس معروف ہیں اور اگر وہ کِسی حدیث کو صیغۂ تحدیث سے بیان کریں، تو وہ صحیح اور قابلِ قبول ہوتی ہے۔ اگر وہ محض عنعنہ سے بیان کریں تو وہ روایت قابلِ استدلال و حجت نہیں ہوتی اور یہ روایت انھوں نے عن ہی سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اسے حَسن کہنے سے بھی بعض محدثین نے تامّل کیا ہے۔ [1] الغرض یہ روایات نہ بھی ہوں، تب بھی صحیح مسلم اور دیگر کتب والی پہلی حدیث ہی سے معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے دینِ اسلام میں تشدد برتنے کو اچھا نہیں سمجھا گیا، بلکہ وُسعت اور فراخی کی تعلیم دی گئی ہے۔ نیز صحیح بخاری، سنن ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دیگر کتبِ حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ، وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ )) [2] ’’تم آسانی پیدا کرنے والے بناکر بھیجے گئے ہو، شدت اورتنگی پیدا کرنے والے نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مُبارکہ تھی کہ جسے بھی کسی مہم پرروانہ فرماتے تو اُسے (( یَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا )) ’’آسانی پَیدا کرو، تنگی میں مبتلا نہ کرو۔‘‘ کی نصیحت کرکے بھیجتے تھے۔ [1] غایۃ المرام (للألبانی) في تخریج احادیث الحلال والحرام للقرضاوي (ص: ۲۲۰۔ ۲۲۱) و تمام المنۃ (للألبانی) في التعلیق علی فقہ السنۃ لسید سابق (ص: ۴۴۔ ۴۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۰) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۶۶) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۶) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۵) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۵۲۸) المنتقی مع النیل (۱/ ۴۱) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۲۳۵۰)