کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 73
بھی مخلُوط معاشرہ ہے۔ خلیجی ومشرقی ممالک کی طرح مغربی و یورپی ممالک اورامریکہ و کینیڈا میں رہنے والے لوگوں کو بھی اسی صورتِ حال کا سامنا ہے، کیوں کہ ان علاقوں میں بھی تارکینِ وطن بکثرت موجود ہیں اور ان کی اکثریت بھی مسلمانوں ہی پر مشتمل ہے، کہیں مسلمان غیر مسلم حکومتوں کے زیرِ تسلّط رہ رہے ہیں تو کہیں غیر مسلم اسلامی حکومتوں کے زیرِ سایہ ہیں۔ لہٰذا غیر مسلم لوگوں کے جُھوٹے کھانے اور پانی یا دیگر مشروبات کا مسئلہ بھی نہایت اہم اور عالمگیر قسم کا ہے، اس لیے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع کو بھی قدرے تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا جائے۔ تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو جائے اور بلا وجہ کسی بھی تشدد کا مظاہرہ نہ ہونے پائے۔ اسلامی احکام کی وسعت: بلا وجہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تنگی کا رویہ اور تشدد کے رجحانات کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم، سنن ابی داود (واللّفظ لہٗ) اور مسند احمد میں مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( أَلَا ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، أَلَا ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ، أَلَا ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ )) [1] ’’خبردار! (دین میں) تشدد برپا کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ خبردار! تشدد برپا کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ خبردار! تشدد برپا کرنے والے ہلاک ہوگئے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ دینِ اسلام بڑا فراخ اور کشادہ دین ہے۔ اس کی تعلیمات میں فطرت کی رعایت رکھی گئی ہے اور تشدد سے اس کے احکام خالی ہیں۔ اس مفہوم کی تائید ایک ضعیف روایت سے بھی ہوتی ہے، جو طبقات ابن سعد اور تاریخ بغداد میں مروی ہے: (( بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِیَّۃِ السَّمْحَۃِ )) [2] ’’میں وہ دین دے کر مبعوث کیا گیا ہوں، جو یکسوئی (توحید) اور فراخی والا ہے۔‘‘ یہا ں بھی دینِ اسلام کو حنیف اور فراخ ہی قرار دیا گیا ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ البتہ اس سے قدرے اچھی سَند والی وہ روایت ہے، جس میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح الجامع الصغیر للألباني (۳/ ۶/ ۸۹) غایۃ المرام في تخریج کتاب الحلال والحرام للقرضاوي علامہ الباني (ص: ۲۰) [2] ضعیف الجامع الصغیر (۲/ ۳/ ۱۰)