کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 67
عہدِ جاہلیت میں لوگوں کا عورت ذات اور بیویوں سے اور خاص ایامِ ماہواری اور فطری حالتِ عذر میں ان سے جو رویہ ہوا کرتا تھا اور کتبِ تاریخ کے ابواب ما قبل الاسلام میں اس کی جو ذہنی کوفت اور روحانی اذیت والی تفصیلات ملتی ہیں، ان کے احاطے کا تو یہاں موقع نہیں۔ البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ صاحبو! دائرہ اسلام میں ہوتے ہوئے بھی اگر اس قسم کی جاہلانہ عادات ورسوم کی پابندی نہ چھوڑی تو پھر کب چھوڑو گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنانا تو درکنار، دُوسروں کو اس سے روکنے کے یہ مشورے آخر چہ معنیٰ دارد؟ عورت کے ماہانہ فطری عذر والے دنوں میں وہ صرف نماز نہیں پڑھے گی۔ روزہ قضا کرے گی، قرآنِ کریم کو ہاتھ میں نہ لے گی، طوافِ بیت اللہ نہ کرے گی اور اس کے شوہر کو جماع کی ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ گھر داری میں وہ کسی قسم کے الگ معاملات کی متقاضی ہرگز نہیں۔ گھر کے سارے کام کاج کرے، شوہر کے ساتھ اُٹھے بیٹھے، اس کی کوئی ممانعت نہیں اور صرف جماع کوچھوڑ کر ہر طرح سے اپنے شوہر کی خدمت کرے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ دلائلِ جواز: کتبِ حدیث میں اس کے جواز کے متعدد دلائل موجود ہیں، مثلاً: 1۔ صحیح بخاری و مسلم، سنن نسائی و دارمی اور مسندِ احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مَروی ہے: (( کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یُوْمِئُ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ لِلنَّسَائِیِّ: یُخْرِجُ) إِلَيَّ رَأْسَہٗ، وَہُوَ مُعْتَکِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سرِ اقدس مسجد سے میری طرف (حجرے میں) بڑھا دیتے تھے، جب کہ میں حیض سے ہوتی تھی۔‘‘ (( فَأَغْسِلُہٗ وَأَنَا حَائِضٌ )) [2] ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ اقدس کو دھو دیتی تھی، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔‘‘ [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۲۹۶) صحیح مسلم مع شرح النووي (۱/ ۳/ ۲۰۹) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۶۵، ۲۶۶) [2] حوالہ جات سابقہ۔