کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 59
نجس چیز گرجائے۔ ایسے پانی کے بارے میں امام ابن قدامہ اپنی فقہ مقارن کی معروف کتاب ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایسا پانی پاک ہی رہتا ہے اور اس کے نجس ونا پاک ہو نے کے بارے میں کوئی نص یا اجماع ہمارے علم میں نہیں، لہٰذا وہ اپنی اصل طہارت (طاہر و مطہّر ہو نے) پر ہی باقی ہے اور وہ ( مذکورہ بالا) نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: (( اَلْمَائُ طَہُوْرٌ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْیٌٔ )) ’’پانی پاک ہے (طاہر و مطہّر ہے ) اسے کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کر سکتی۔‘‘ اور دوسری روایت: (( الْمَائُ طَہُوْرٌ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْیٌٔ الاَّ مَا غَلَبَ عَلَیٰ رِیْحِہٖ وَطَعْمِہٖ وَلَوْنِہٖ )) ’’پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی، مگر جو اس کی بو، ذائقے اور رنگ پر غالب آجائے۔‘‘ کے تحت ہی آجاتا ہے۔ شوافع اور حنابلہ وغیر ہ جو پانی کا دو مٹکوں یا اس سے زیادہ ہو نا اس کے طاہر و مطہّر رہنے کے لیے شرط قرار دیتے ہیں، ان کی طرف سے اشکال وارد کر کے اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قلتین یا دو مٹکوں والی حدیث بھی ایسے پانی کے پاک ہونے ہی کی دلیل ہے، کیوں کہ بہتے ہوئے پانی کی مجموعی مقدار تو بہر حال دو مٹکوں سے زیادہ ہی ہوجاتی ہے اور پھر دو مٹکوں والی شرط کو بہتے ہوئے پانی پر نافذ کرنا، ایک قسم کا تحکم اور سینہ زوری ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیوں کہ دو مٹکوں والی حدیث ٹھہرے ہوئے پانی کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور چلتے پانی کو اسی پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ [1] یہاں بھی بہتے ہوئے پانی سے گندے نالے وغیرہ ہرگز مراد نہ لیے جائیں، جیسا کہ شہروں کے قریب والے تالاب مراد نہیں لیے تھے، کیوں کہ ان بہنے والے نالوں میں پانی ہی ایسا جمع ہوتا ہے، جو نجس ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے نجس اور ناپاک ہو نے میں تو کسی کو کلام نہیں۔ گھی کا حکم: پانی میں نجاست گرنے سے جو صورتِ حال بنتی ہے، تقریباً یہی معاملہ گھی کا بھی ہے ، جب وہ [1] المغني۔ تحقیق الترکي (۱؍ ۴۷۔ ۴۸)