کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 58
یہ ہو کہ اس نجاست کا اثر پانی میں نہیں پھیلا ہوگا تو وہ نجس ہوگا۔ [1] اس کی بنیاد بھی قیاس پر ہی ہے نہ کہ کسی آیت یا حدیث پر۔ یہ معیار تو امام صاحب کی طرف منسوب ہے، جبکہ ان کے دو نوں شاگر دان رشید امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اگر پانی کا طول و عرض اور گہرائی دس ہاتھ ہو تو وہ نجس نہیں ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو نجس ہو جائے گا۔ [2] اس کی بنیاد بھی قرآن و سنت کی کسی نص پر نہیں، بلکہ قیاس محض پر ہے اور پھر مختلف قسم کے قیاسی معیاروں پر بھی کئی اعتراضات و اشکالات وارد ہوتے ہیں، مثلاً حرکت والے معیار میں ان کے مطابق اگر کم گہرا مگر کافی طول و عرض میں پھیلا پانی ہو اور اس کے دوسرے کنارے تک حرکت کا اثر نہ پہنچ سکے تو وہ نجس نہ ہوا اور اگر اس سے بیسیوں گنا زیادہ پانی ہو، گہرائی میں زیادہ اور طول وعرض کے اعتبار سے تنگ جگہ میں ہو تو اس میں چونکہ حرکت کا اثر دوسری طرف پہنچ جائے گا، لہٰذا وہ نجس ٹھہرا اور یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ [3] الغرض ایک تو قرآن و سنت سے دلیل نہیں، دوسرے یہاں اس قسم کے تضادات بھی پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قولِ اوّل میں مذکور اہلِ تحقیق علما و فقہا نے ان تینوں اقوال میں سے ’’أقرب الأقوال بالنظر إلی الدلیل‘‘ یعنی ازروے قوتِ دلیل سب سے صحیح ترین قول یا مسلک پہلے قول ہی کو قرار دیا ہے اور تیسرے قول کی کوئی نقلی دلیل ہی نہیں، محض عقلی دلیل ہے اور وہ بھی تناقض والی ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ قول اوّل کے مطابق اگرچہ مذکورہ پانی نجس نہیں، لیکن کسی کو کسی بھی پانی سے وضو یا غسل کر نے پر مجبور تو بہرحال نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے موافق پانی ہی کو استعمال میں لایا جائے اور وہ پانی جو ازروے قوتِ دلیل نجس نہ ہو، اُسے محض طبیعت کی عدمِ موافقت کی بنا پر نجس بھی نہ قرار دیا جائے۔ بہتے ہوئے پانی کا حکم: اسی تیسری قسم کے ضمن میں وہ پانی بھی آجاتا ہے جو کھڑا نہیں، بلکہ بہہ رہا ہو اور اس میں کوئی [1] المغني (۱؍ ۴۱) المتعلق الصبیح (۱؍ ۲۳۱) [2] سبل السلام (۱؍ ۱۷) [3] تہذیب معالم السنن (۱؍ ۱۲۰)