کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 57
کے اعتبار سے ضعیف و کمزور ہے اور سند و استناد کی بنا پر غیر ثابت بھی ہے۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ دو مٹکوں میں کتنا پانی ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں نہ تو کوئی حدیث صحیح و ثابت ہے اور نہ اس پر اجماع ہی ملتا ہے۔ اگر یہ لازمی حد ہوتی تو علما پر واجب تھا کہ وہ بحث و تحقیق کر کے اس حدکی واقفیت حاصل کر یں، جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہو، کیوں کہ یہ بات دین کے اصل الاصول اور فرائض میں شامل ہے۔ [1] امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ابن المنذر نے دو مٹکوں کے بارے میں جو اختلاف ذکر کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی توقیف و تحدید ثابت نہیں ہے۔ [2]الغرض اس مسلک کا استدلال جس حدیث سے ہے، اس پر اگرچہ کلام کیا گیا ہے، مگر اسے کثیر محدثین رحمہ اللہ نے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ 3۔ ایسے پانی کے بارے میں تیسرا قول یا مسلک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پانی میں نجاست گر جائے تو وہ نجس ہو جاتا ہے، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، جب اس میں نجاست کا عموم متحقق ہو جائے، ان کے نزدیک نجاست کا عموم کیسے متحقق ہوتا ہے؟ اسے اس مثال سے سمجھاجاسکتا ہے کہ ایک تالاب میں پیشاب کا ایک قطرہ یا نجاست کا کوئی ذرّہ گر گیا۔ اب اگر اس تالاب کے ایک کنارے سے پانی کو حرکت دی جائے اور اس حرکت کا اثر دوسرے کنار ے پر دیکھا جاسکے تو اس تالاب کا سارا پانی نجس ہوگیا، لیکن اگر ایک کنارے کی حرکت کا اثر دوسرے کنارے پر نہ دیکھا جاسکے اور اس کنارے کا پانی متحرک نہ ہو تو پھر وہ پانی نجس نہیں ہوگا۔ [3] پانی کے قلیل و کثیر کا معیار (دوسرے قول میں) تو ایک حدیث سے لیا گیا تھا، مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ اس معیار کی بنیاد نہ کسی قرآنی آیت پر ہے نہ کسی صحیح اور نہ ضعیف حدیث ہی پر، بلکہ یہ سراسر قیاسی بنیاد پر ہے۔ اسی معیار کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ظنِ غالب یہ ہو کہ نجاست کا اثر پورے پانی میں پھیل چکا ہوگا، تو وہ سارا پانی ہی ناپاک ہو جائے گا اور اگر گمان غالب [1] نیل الأوطار (۱؍ ۳۱) تفسیر القرطبي (۷؍ ۱۳؍ ۴۲۔ ۴۳) [2] تفسیر القرطبي (۷؍ ۱۳؍ ۴۳) [3] تفسیر القرطبي (۷؍ ۱۳ ؍ ۴۲)