کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 55
نجس نہیں ہوتا۔ اسی مفہوم کی کئی دیگر احادیث بھی مروی ہیں، جو متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مرفوعاً اور موقوفاً صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان ، مسند احمد، مسند ابی یعلی و بزار اور معجم طبرانی اوسط میں مذکور ہیں۔ [1] 2۔ ایسا پانی جس میں کوئی ناپاک چیز گر جائے، مگر اس سے اس کا رنگ، ذائقہ یا بو تبدیل نہ ہو، اس کے بارے میں اہلِ علم کا دوسرا قول ہے کہ اگر وہ پانی کثیر مقدار میں ہوگا تو ناپاک نہیں ہوگا اور اگر قلیل مقدار میں ہوا تو ناپاک ہو جا ئے گا۔ یہ حضرت ابن عمر، سعید بن جبیر، امام مجاہد، امام شافعی، امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ اور ایک روایت میں امام احمد اور ابو عبید رحمہ اللہ کا مسلک ہے۔ [2] پھر اس قلیل و کثیر پانی کی کوئی حدبندی بھی نہیں کی گئی، البتہ ایک متکلم فیہ حدیث اور قیاس سے قلیل و کثیر کی حدود طے کی گئی ہیں۔ قلیل و کثیر پانی کی حدبندی میں ائمہ و فقہا کی آرا بھی مختلف ہیں۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ اور عام اہلِ حدیث علما کے نزدیک اس کی حدبندی یہ کی گئی ہے کہ اگروہ پانی دوقلے یعنی مٹکے یا اس سے زیادہ ہو تو وہ کثیر شمار ہوگا اور اگر دو قلوں (مٹکوں) سے کم ہے تو وہ قلیل ہے۔ پہلی شکل (یعنی دو قلے یا زیادہ ہوا تو اس صورت) میں وہ پانی نجس نہیں ہوگا اور دوسری شکل میں (دو قلوں سے کم ہوا تو) وہ نجس ہو جائے گا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے، جو سنن اربعہ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، مستدرک حاکم، سنن دارقطنی، سنن دارمی، مسند احمد و شافعی اور طیالسی میں مروی ہے، جس کے الفاظ ہیں: (( إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبُثَ )) [3] ’’جب پانی دو قلے ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا (یعنی نجس نہیں ہوتا)۔‘‘ اس مفہوم کی تائید سنن ابن ماجہ اور مسند احمد کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، جس میں (( لَمْ یَحْمِلِ الْخَبُثَ )) کے بجائے (( لَمْ یُنَجِّسْہٗ شَیْیٌٔ )) کے الفاظ ہیں کہ ’’دو قلّے یا اس سے زیادہ پانی کو کوئی چیز [1] نیل الأوطار (۱؍ ۲۸) [2] المغني (۱؍ ۳۹) [3] الفتح الرباني (۱؍ ۲۱۶۔ ۲۱۷) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۸) صحیح سنن الترمذي (۵۷) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۵۱۷) موارد الظمآن، رقم الحدیث (۱۱۷) نیل الأوطار و المنتقیٰ (۱؍ ۳۰)