کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 53
بنیاد پر ہیں: 1۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ و فقہا کا کہنا ہے کہ پانی کم ہو یا زیادہ، اگر اس کا رنگ یا ذائقہ یا بو کچھ بھی تبدیل نہ ہوا ہو تو وہ پانی ناپاک نہ ہوگا، یعنی اس میں سے نجاست نکال کر اسے ہر قسم کے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ ام المومنین حضرت عائشہ، ام المومنین حضرت میمونہ، امیر المومنین حضرت عمر فاروق، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسین شہیدِ کربلا، حضرت ابوہریرہ، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی ایک جماعت کا مسلک ہے، جیسا کہ علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب ’’المحلیٰ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ [1] نیز امام مالک، اوزاعی، لیث اور علماے مجتہدین کا بھی یہی مسلک ہے، جیسا کہ علامہ ابن عبد البر نے ’’التمھید‘‘ میں اس کی تفصیل ذکر کی ہے۔ [2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’إغاثۃ اللھفان‘‘ (۱/ ۱۵۶) میں لکھا ہے: اہلِ مدینہ، جمہور سلف، اکثر محدثین، سفیان ثوری، عبد الرحمن بن مہدی اور اہلِ ظاہر بھی اسی کے قائل ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے علاوہ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ’’المغني‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی اس کی ایک روایت ملتی ہے اور فقہاے حنابلہ کی ایک جماعت نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔[3] امام شوکانی رحمہ اللہ کے بقول اما م حسن بصری ، سعید ابن مسیب، عکرمہ، ابن ابی لیلی، ابراہیم نخعی، امام مالک اور غزالی رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ [4] محققین علما کی ایک جماعت نے بھی اسی مسلک کو صحیح قرار دیا ہے، مثلاً: علامہ ابن عبد البرنے ’’التمہید‘‘ (۱/ ۳۲۸) میں، علامہ ابن حزم نے ’’المحلّی‘‘ (۱؍ ۱۳۵) میں، امام ابن تیمیہ نے ’’فتاویٰ‘‘ (۲۱؍ ۴۹۸ وما بعد) میں علامہ ابن قیم نے ’’إغاثۃ اللہفان‘‘ (۱/ ۱۵۶) اور ’’تھذیب معالم السنن‘‘ (تھذیب علیٰ عون المعبود: ۱/ ۱۱۹) میں، امیر صنعانی نے ’’سبل السلام‘‘ (۱/ ۱۸) میں، امام شوکانی نے ’’السیل الجرار‘‘ (۷۶۲) میں، شیخ عبد الرحمن یمانی نے [1] المحلی (۱؍ ۱۶۸) [2] التمھید (۱؍ ۳۲۷۔ ۳۲۸) [3] المغني (۱؍ ۳۹) [4] نیل الأوطار (۱؍ ۲۹)