کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 48
(( إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ )) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے غسلِ جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو فرمایا۔‘‘ اسی طرح اس سلسلے میں تیسری حدیث بھی ہے پہلے بھی گزر چکی ہے۔ 3۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے ایک ٹب والے پانی سے غسل کیا۔ پھر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے غسل یا وضو کرنے لگے تو انھوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جنابت سے تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِنَّ الْمَآئَ لَا یَجْنُبُ )) ’’بے شک پانی جنبی نہیں ہوتا۔‘‘ 4۔ نیز صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہے: (( اَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَ مَیْمُوْنَۃَ کَانَا یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَّاحِدٍ )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔‘‘ 5۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے: (( کُنْتُ اَغْتَسِلُ أَنَا وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ اِنَائٍ وَّاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ )) [3] ’’میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسلِ جنابت کیا کر تے تھے۔‘‘ 6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان بھی صحیح بخاری ومسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں: (( کُنْتُ اَغْتَسِلُ أَنَا وَ رَسُوْلُ اللّٰه ﷺ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَیْدِیْنَا فِیْہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ )) [4] ’’میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے (بیک وقت) غسل جنابت کیاکر تے تھے، [1] سنن ابن ماجہ رقم الحدیث (۳۷۲) [2] صحیح البخاری مترجم (۱؍ ۲۰۱) و مسلم مع شرح النووي (۴/ ۶) نیل الأوطار (۱؍ ۲۶) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۴؍ ۷) نیل الأوطار (۱؍ ۲۷) [4] صحیح مسلم (۲؍ ۴؍ ۶)