کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 47
وضو کرنے سے منع فرما دیا۔ 4۔ ایک تیسری حدیث سنن ابی داود و نسائی، مسند احمد اور سنن بیہقی میں مروی ہے، جس میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں چار سال رہنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگی کرنے اور غسل خانے میں پیشاب کرنے سے منع کیا اور ارشاد فرمایا ہے: (( وَاَن تَغْتَسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَأَنْ یَّغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ، وَلْیَغْتَرِفَا جَمِیْعَاً )) [1] ’’اور عورت کو مرد کے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے بھی منع فرمایا اور چاہیے کہ میاں بیوی اکٹھے غسل کر لیں۔‘‘ یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ غسل خانے میں پیشاب اس وقت منع ہے، جبکہ وہ صرف غسل کے لیے ہو اور پانی کی نکاسی کا خاص انتظام نہ ہو، لیکن اگر موجود ہ حماموں یا باتھ رومز کی طرح وہاں پیشاب، پاخانے اور غسل کے لیے الگ مخصوص جگہ بنی ہو تو وہاں پیشاب سے چھینٹوں کا کوئی احتمال نہیں رہتا، لہٰذا پیشاب کیا جاسکتاہے اور جمہور فقہا کے نزدیک یہ جائز ہے۔ [2] ایسے ہی مستعمل پانی طاہر، لیکن غیر مطہر ہونے کے بعض دیگر قیاسی قسم کے دلائل بھی نقل کیے گئے ہیں۔ [3] ان مذکورہ بالا احادیث سے تو استدلال بھی تب درست ہوتا، جب یہ کوئی زیرِ بحث مسئلے میں فیصلہ کن ہوتیں، حالانکہ اس کے برعکس صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: (( کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَیْمُوْنَۃَ )) [4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے پانی سے غسل فرماتے تھے۔‘‘ 2۔ سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں خود حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۱) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۳۲) الفتح الرباني (۱؍ ۲۱۰) [2] تھذیب معالم السنن لابن القیم علی عون المعبود (۱؍ ۱۱۸) و غایۃ المقصود أیضاً۔ [3] دیکھیں: نیل الأوطار (۱؍ ۲۳) [4] صحیح مسلم مع شرحہ النووي (۴/ ۶۔ ۷) الفتح الرباني (۱؍ ۲۱۲) المنتقی مع النیل (۱؍ ۲۶)