کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 465
اعضا اور پاؤں کا معاملہ بھی ہوتا ہے، بلکہ ایک حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو وسواس میں مبتلا کرنے پر ایک شیطان متعین ہے، جیسا کہ سنن ترمذی و ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (( اِنَّ لِلْوُضُوئِ شَیْطَاناً، یُقَالُ لَہٗ: وَلْہَانٌ، فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَائِ )) [1] ’’وضو کا ایک شیطان ہے، جسے ’’ولہان‘‘ کہا جاتا ہے، پس تم پانی کے وسواس سے بچو۔‘‘ لیکن یہ روایت سخت ضعیف ہے۔[2] اس کے علاوہ سنن ابو داود، ابن ماجہ اور مسندِ احمد کی ایک صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے جب اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کے دائیں حصے میں سفید رنگ کا محل مانگتا ہوں تو انھوں نے فرمایا: بیٹا! اللہ سے جنت مانگو اور نارِ جہنم سے پناہ طلب کرو ( یعنی دعا کرنے میں اتنی باریکیوں اور تکلفات سے کام نہ لو)، کیوں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: (( اِنَّہٗ سَیَکُوْنُُ فِیْ ہَذِہٖ الْأُمَّۃِ قَوْمٌ یَعْتَدُوْنَ فِی الطُّہُوْرِ وَ الدُّعَائِ )) [3] ’’میری امت میں ایک قوم پیدا ہوگی، جو طہارت اور دعا میں زیادتی (حدود سے تجاوز) کریں گے۔‘‘ اس حدیث کی روسے بھی غسل اور وضو کے لیے پانی میں احتیاط برتنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ [1] دیکھیں: سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲۱) المغني (۱؍ ۲۱۸) [2] ضعیف الجامع الصغیر (۱؍ ۲؍ ۱۸۷) و تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۳۱) [3] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۳۱) وقال الألباني۔ إسنادہ صحیح وصححہ جماعہ، ولیس عند ابن ماجہ الاعتداء في الطہور۔