کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 464
تاہم اس مفہوم پر ایک دوسری صحیح حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ پانی میں احتیاط برتی جائے اور کم از کم پانی سے غسل و وضو کیا جائے، چنانچہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَ یَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَیٰ خَمْسَۃِ أَمْدَادٍ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرمایا کرتے تھے اور ایک صاع یعنی چار مدوں سے لے کر پانچ مدوں تک پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔‘‘ ’’القاموس المحیط‘‘ میں علامہ فیروز آبادی نے ’’مد‘‘ پیمانے کے بارے میں لکھا ہے: ’’مِکْیَالٌ مِلْئُ کَفَّي الْإِنسَانِ الْمُعْتَدِلِ اِذَا مَلَأَھُمَا وَ مَدَّیَدَہٗ بِہِمَا، وَبِہٖ سُمِّیَ مُدّاً‘‘[2] ’’ایک پیمانہ جو درمیانے قد کے انسان کے دونوں خوب کھلے ہوئے ہاتھوں سے بنائے گئے، چُلو کے برابر ہوتا ہے۔ ہاتھوں کو خوب پھیلا کر کھولنے کی وجہ ہی سے اس پیما نے کا نام ’’مد‘‘ ہے (کیوں کہ لغت میں مد کا معنیٰ ہی کھینچنا یا پھیلا نا ہے)۔‘‘ اس حدیث سے مسنون مقدار تو معلوم ہوگئی۔ اب پانی کی فراوانی کی وجہ سے کچھ زیادہ استعمال کی گنجایش تو ہے، لیکن پوری ٹینکی بہا دینے کی تو اجازت نہیں ہوسکتی۔ بعض احادیث میں تو دو تہائی مد سے وضو کا بھی پتا چلتا ہے، جیسا کہ مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ایسے ہی ایک انصاری صحابیہ حضرت اُم عمارہ رضی اللہ عنہا سے بھی سنن ابی داود میں دو تہائی مد آیا ہے۔ اس حدیث کو امیر صنعانی نے ’’سبل السلام‘‘ میں حسن قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اہلِ علم زیادہ پانی استعمال کرنے کو مکروہ خیال کرتے ہیں۔‘‘[3] بعض لوگوں کو وسواس کا مرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کر پاتے کہ ان کے ہاتھ اب پاک ہو گئے ہیں یا نہیں؟ لہٰذا تا دیر وہ ہاتھوں ہی کو دھوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے ہی دیگر [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۲۱۰) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۴؍ ۷، ۸) [2] دیکھیں: سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۴۷) تحقیق المشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۳۷) [3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: المغني لابن قدامۃ (۱؍ ۲۰۵، ۲۰۸) بلوغ المرام مع سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۴۸، ۵۴، ۵۵)