کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 460
3۔امام احمد اور حنابلہ کا مسلک کہ خون کم ہو تو ناقضِ وضو نہیں، بہت زیادہ ہو تو ناقض ہے۔ جب کہ دلائل کے اعتبار سے قوی تر اور صحیح ترین مسلکِ اول ہی ہے۔ عساکرِ اسلامیہ کے مجاہدین کی تاریخ میں ان کا زخمی ہونا اور اسی حالت میں نمازیں ادا کر نا بالتواتر ثابت اور مسلکِ اول ہی کا موید ہے۔ حدیثِ جابر بھی اس کی شاہد ہے اور کثیر و قلیل کے فرق والے مسلک کی تائید میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔ احناف کے مسلک کے بارے میں علماے احناف میں سے علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ہمارے اصحاب نے جس قوی اور صحیح ترین حدیث سے استدلال کیا ہے، وہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا والی حدیثِ استحاضہ ہے، جو بخاری میں مروی ہے، مگر اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ وہ عذر والے لوگوں کے ساتھ خاص ہے، جیسے سلس البول وغیرہ ہے۔ لہٰذا اس حدیث میں بھی حجت نہیں ہے۔‘‘[1] لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ قلیل و کثیر خون سے وضو نہیں ٹوٹتا، سوائے اس خون کے جو سبیلین سے نکلے۔ 10۔ایذاے مسلم: وہ امور جنھیں بعض اہلِ علم نے ناقضِ وضو کہا ہے اور بعض لوگوں سے اس کی روایات بھی ملتی ہیں، مگر قرآن و سنت کی کسی صحیح دلیل سے ان کا ناقض ہونا ثابت نہیں ہوتا، ایذاے مسلم بھی ہے۔ یہاں اس بات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کو ایذا پہنچانا کتنا بڑا گناہ ہے، حتیٰ کہ سورۃ الاحزاب (آیت: ۵۸) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا} ’’اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت) سے جو انھوں نے نہ کیا ہو اِیذا دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔‘‘ حتیٰ کہ صحیح بخاری و مسلم میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح مسلمان ہی اسے قرار دیا ہے ، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، جیسا کہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] التلخیص الحبیر (۱/ ۱/ ۱۱۵)