کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 46
استعمال میں لایا جاسکتا ہے، کیوں کہ وہ پلید و نجس نہیں ہوتا، جیسا کہ پہلے مسلک کے دلائل کے طور پر ذکر کی گئی احادیث سے معلوم و واضح ہو تا ہے۔ نیز اگر مستعمل پانی نجس و پلید ہو جاتا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم بڑے بڑے پیالوں اور ڈبوں وغیرہ سے وضو کرتے، کیوں کہ اس طرح یقینا مستعمل پانی کے چھینٹے تو پانی کے بڑے برتن میں گر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (استاذ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ) کا ارشاد ہے: (( وَلَا بُدَّ ۔۔۔ مِنْ ذَلِکَ )) [1] ’’اس کے بغیر کو ئی چارہ ہی نہیں۔‘‘ الغرض صحاح و سنن کی مذکورہ حدیث سے یہ دلیل لی گئی ہے کہ مستعمل پانی خود تو پاک رہ جاتا ہے، مگر اس میں غسل و وضو کے لیے پاک کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی، اسی لیے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں (خصوصاً جب کہ وہ کم مقدار میں ہو) غسل جنابت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مرد و زن کا اکٹھے غسل اور وضو کرنا: اسی مسلک کی دوسری دلیل وہ حدیث ہے، جو سنن اربعہ یعنی سنن ابی داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد و مسند ابو داود طیالسی میں مروی ہے، جس میں حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (( اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَہَیٰ اَنْ یَّتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طُہُورِ الْمَرْأَۃِ )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کر نے سے منع کیا ہے۔‘‘ 2۔ سنن نسائی و ابن ماجہ میں (( طَہُوْرِ الْمَرْأَۃِ )) کے بجائے (( وَضُوئِ الْمَرْأَۃِ )) کے الفاظ ہیں، دونوں حدیثوں کا ایک ہی ہے۔‘‘ [3] اس حدیث سے یوں دلیل لی گئی ہے کہ عورت کے وضو کرنے سے چو نکہ وہ پانی مستعمل ہو جاتا ہے اور مطہر ہو نے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مستعمل پانی کے ساتھ [1] المغني (۱؍ ۲۳) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۲) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۴) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۷۳) [3] الفتح الرباني (۱؍ ۲۱۱) المنتقی مع النیل (۱؍ ۲۵) حسنہ الترمذي و صححہ الألباني في الإرواء (۱؍ ۴۳۔ ۴۴)