کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 458
تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے عام صحابہ رضی اللہ عنہما اور علماے حجاز کا یہی مسلک ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، جب کہ شرح بخاری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’امام طاؤس، محمد بن علی اور عطا رحمہم اللہ بھی حجازی ہیں، جب کہ مصنف عبد الرزاق میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سعید بن جبیر اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے طریق سے یہی مروی ہے، نیز اسماعیل القاضی نے ابو زناد کے طریق سے اہلِ مدینہ کے فقہاے سبعہ سے بھی یہی روایت بیان کی ہے اور امام مالک و شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘[1] حلق یا مسوڑھوں سے خون بہنے سے بھی وضو ٹوٹنے کے بارے میں صحیح بخاری میں تعلیقاً اور جامع سفیان ثوری اور ’’معرفۃ السنن و الآثار للبیہقي‘‘ میں موصولاً صحیح سند سے مروی اثر ہے: (( بَزَقَ ابْنُ أْبِي أَوْفَیٰ دَماً فَمَضٰی فِيْ صَلَاتِہِ )) [2] ’’ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے خون تھوکا اور اپنی نماز میں مشغول ر ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا اسمِ گرامی عبداللہ رضی اللہ عنہ تھا، جو صحابی تھے اور ان کے والد ابو اَوفیٰ رضی اللہ عنہ بھی صحابی تھے، گویا انھیں صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ صحیح بخاری میں تعلیقاً اور مصنف ابن ابی شیبہ و مسند شافعی میں موصولاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے: ’’کَانَ إِذَا احْتَجَمَ غَسَلَ مَحَاجِمَہٗ‘‘[3] ’’وہ جب سینگی لگواتے تو بس صرف اس مقام (جہاں سینگی لگواتے) کو دھوتے تھے۔‘‘ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح بخاری میں تعلیقاً اور مصنف ابن ابی شیبہ میں موصولاً مروی ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ سینگی لگوانے والا کیا کرے؟ تو انھوں نے فرمایا: ’’یَغْسِلُ أَثَرَ مَحَاجِمِہٖ‘‘ [4] ’’اپنے اس مقام (سر) کو دھو ڈالے۔‘‘ صاحبِ ’’فتح الباري‘‘ لکھتے ہیں کہ امام لیث کے بارے میں تو یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ سینگی لگوانے والے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سینگی والی جگہ کو اچھی طرح پونچھ کر [1] فتح الباري (۱؍ ۱۸۲) [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۸۰، ۲۸۲) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۴) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۸۰، ۲۸۲) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۴) [4] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۸۰، ۲۸۲) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۴)