کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 454
’’المحلیٰ‘‘ میں اسے باطل قرار دیا ہے۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’یہ قیاس باطل ہے، کیوں کہ خونِ استحاضہ کو تو خونِ حیض پر بھی قیاس کرناجائز نہیں، حالاں کہ ان دونوں کا مخرج بھی ایک ہی ہے، کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان دونوں طرح کے خون کا الگ الگ حکم بیان فرمایا ہے۔‘‘ یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ علامہ موصوف نے دونوں طرح کے خون کے الگ الگ حکم کا جو اشارہ فرمایا ہے، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے اور نہ روزہ رکھنا اور ان ایام میں وہ اپنے شوہر کے لیے بھی مباشرت کے لیے حلال نہیں ہوتی، جب کہ مستحاضہ عورت نماز بھی پڑھے گی اور روزہ بھی رکھے گی اور استحاضے کی حالت والی عورت سے اس کے شوہر کا مباشرت کرنا بھی حلال ہے۔ ان دونوں طرح کی عورتوں کے خون کا مخرج اگرچہ ایک ہی ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کا حکم الگ الگ رکھا ہے۔ آ گے علامہ موصوف لکھتے ہیں: ’’جب ان دونوں میں یہ فرق کیا گیا ہے تو یہ ایک باطل بات ہوگی کہ جسم کے تمام اعضا سے نکلنے والے خون کو فرج سے نکلنے والے خون پر قیاس کیا جائے، جب کہ یہ بات تو اور بھی زیادہ باطل ہے کہ زخم سے نکلنے والے خون سے خالی پیپ کو خون پر قیاس کیا جائے، اس با ت پر اجماع کا دعویٰ بھی یہ قائلین نہیں کر سکتے، کیوں کہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ حضرت حسن بصری اور ابو مجلز رحمہ اللہ خون اور پیپ کے مابین فرق کیا کرتے تھے۔‘‘ [1] اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح و صریح حدیث سے ثابت نہیں کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، نہ تھوڑا خون نکلنے سے اور نہ زیادہ سے اور نہ عام خون کو خونِ استحاضہ پر قیاس کرنا صحیح ہے، جب کہ اس کے برعکس بعض احادیث و آثار ایسے بھی ملتے ہیں، جن میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خون نکلنے کو ناقضِ وضو نہیں سمجھتے تھے۔ 1۔پہلا واقعہ ’’صحیح البخاري، کتاب الوضوء، باب من لم یر الوضوء إلّا من المخرجین من القبل والدبر‘‘ میں تعلیقاً اور مغازی ابن اسحاق میں موصولاً اور ابن اسحاق کے طریق ہی سے سنن ابی داود، مسند احمد، سنن دارقطنی، صحیح ابن حبان، ابن خزیمہ اور [1] المحلی (۱؍ ۱؍ ۲۵۸، ۲۵۹) التمہید (۱؍ ۱۹۰)