کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 452
سنن دارقطنی کے حوالے سے تھی اور ضعیف ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَارَعَفَ فِیْ صَلَاتِہٖ تَوَضَّأَ، ثُمَّ بَنَیٰ عَلَیٰ صَلَاتہِ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں جب نکسیر پھوٹ پڑتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور جہاں سے نماز چھوٹی ہوتی، وہیں سے شروع فرماتے۔‘‘ ’’نصب الرایۃ‘‘ میں علامہ زیلعی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ اس روایت کی سند کے ایک راوی عمر بن رباح کے بارے میں ابن عدی نے ’’الکامل‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ اپنے سے اوپر کے راوی عبداللہ بن طاؤس سے باطل روایات بیان کرتا ہے، جن پر اس کی کسی نے متابعت نہیں کی، نیز امام بخاری نے اسے ’’دجال‘‘ کہا ہے، جب کہ ’’التحقیق لابن الجوزي‘‘ میں ہے کہ امام دارقطنی نے اسے متروک کہا ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ وہ ثقہ راویوں کے نام سے من گھڑت روایات بیان کیا کرتا تھا۔ اس کی بیان کردہ روایت لکھنے کے قابل بھی نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ اسے اظہارِ تعجب و عبرت کے لیے لکھ لیا جائے۔[2] اس طرح خون کے ناقضِ وضو ہونے سے تعلق رکھنے والی ان احادیث اور آثار کی استنادی حیثیت معلوم ہو گئی کہ وہ کیوں نا قابلِ حجت ہیں؟ ان احادیث و آثار کے ضعف کی وجہ ہی ہوگی کہ علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے ’’الخلاصۃ‘‘ سے امام نووی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’لَیْسَ فِیْ نَقْضِ الْوُضُوْئِ وَعَدَمِ نَقْضِہٖ بِالدَّمِ وَالْقَیْئِ وَالضِّحْکِ فِی الصَّلاَۃِ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ‘‘[3] ’’خون، قَے اور دورانِ نماز ہنسنے سے وضو کے ٹوٹ جا نے یا نہ ٹوٹنے کے بارے میں کوئی ایک بھی حدیث صحیح نہیں۔‘‘ جب صراحت کے ساتھ کو ئی ایک بھی صحیح حدیث ان اشیا کے ناقض ہونے پر دلالت کرنے والی نہیں تو پھر وضو کا حکم براء تِ اصلیہ پر رہے گا کہ وہ نہیں ٹوٹے گا۔ [1] دیکھیں: نصب الرایۃ (۱؍ ۴۱) [2] دیکھیں: نصب الرایۃ (۱؍ ۴۲) [3] نصب الرایۃ (۱؍ ۴۲)