کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 450
بات اگرچہ عوام الناس کے لیے کوئی اتنی زیادہ مناسبِ حال نہیں، لیکن اگر تھوڑی سی توجہ دی جا ئے تو بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اس سے کئی مسائل حل ہو جاتے ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں اما م مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اور دیگر محدّثین کے یہاں مرسل روایات قابلِ حجت نہیں۔[1] امام ترمذی رحمہ اللہ ’’کتاب العلل‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مرسل روایت اکثر محدّثین کے نزدیک صحیح نہیں اور کئی محدّثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔[2] یہ ضعیف و ناقابلِ حجت کیوں ہے؟ اس کی تفصیل تو موطا امام مالک کی شرح ’’التمہید لابن عبد البر‘‘ ، ’’شرح نخبۃ الفکر للعسقلاني‘‘ ، ’’شفاء الغلل في شرح کتاب العلل‘‘ علامہ مبارکپوری رحمہم اللہ اور دیگر کتب میں دیکھی جاسکتی ہے، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ مرسل روایت کی سند سے جو راوی محذوف ہے، اس کا صحیح علم نہیں ہو سکتا کہ وہ صحابی ہے یا کوئی تابعی، کیوں کہ کبھی کوئی تابعی دوسرے تابعی سے سنتاہے۔ لیکن اگر محذوف راوی صحابی ہو، تو پھر کسی چیز کا خدشہ اور ضرورت نہیں رہ جاتی، کیوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سبھی عدول ہیں۔ ہاں اگر تابعی کسی دوسرے تابعی کے حوالے سے بیان کرے تو اس بات کا واضح احتمال ہوتا ہے کہ وہ دوسرا تابعی، جو محذوف ہے، وہ ثقہ ہونے کے بجائے ضعیف ہو، کیوں کہ کثیر تابعین سے ثابت ہے کہ انھوں نے ثقہ اور ضعیف دونوں قسم کے راویوں سے روایات لی ہیں اور اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی خبر کو قبول کر نے کے لیے خبر دینے والے راوی کی عدالت و ثقاہت کا علم ہونا ضروری ہے، چو نکہ مرسل روایت کی صورت میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعی کے درمیان والے واسطے کی عدالت و ثقاہت کا علم ہونا نا ممکن ہے، لہٰذا مرسل راویت ناقابلِ حجت قرار دی گئی ہے۔[3] قَے اور نکسیر کے بارے میں مرسل روایات اسی وجہ سے ناقابلِ حجت ہیں۔ 9۔خون: یہیں یہ بات بھی واضح کردیں کہ نکسیر پھوٹنے سے خون ناک سے نکلے یا جسم کے کسی بھی حصے [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۱؍ ۱۳۲) [2] العلل في آخر سنن الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۵۰۹) [3] التمہید (۱؍ ۶ طبع مراکش) شرح نخبۃ الفکر بحوالہ شفاء الغلل (۱۰؍ ۵۱۰)