کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 443
مسندِ احمد اور بزار میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَہٗ فَلْیَتَوَضَّأْ )) [1] ’’جو شخص میت کو غسل دے، وہ خود غسل کرے اور جو اسے اٹھا ئے، وہ وضو کرلے۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اسی حدیث کو ’’بلوغ المرام‘‘ میں نقل کرنے کے بعد امام احمد رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں: ’’لَا یَصِحُّ فِيْ ھٰذَا الْبَابِ شَیْیٌٔ‘‘ ’’اس موضوع کی کوئی حدیث صحیح نہیں۔‘‘ جب کہ امیر صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد نے یہ بات اس لیے فرمائی ہے کہ انھوں نے جس سند سے یہ حدیث بیان کی ہے، اس میں ضعف ہے، لیکن امام ترمذی نے اسے حسن اور ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، کیوں کہ اس کے کئی طُرق ایسے بھی ہیں، جن میں ضعف نہیں ہے۔ امام ماوردی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بعض محدّثین نے اس حدیث کے ایک سو بیس طُرق کی تخریج کی ہے۔ امام علی بن مدینی اور علامہ ابن رشد نے کہا ہے کہ اس موضوع کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ امام ذہبی اور ابن المنذر نے بھی کہا ہے کہ اس موضوع کی کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔ امام ابن ابی حاتم، امام بخاری، بیہقی اور رافعی نے اسے موقوف قرار دیا ہے۔ البتہ امام ترمذی کی تحسین، ابن حبان کی تصحیح اور دارقطنی کی توثیق کی طرح علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، انھوں نے تو غسل و وضو بھی واجب قرار دیا ہے، جب کہ حافظ ابن حجر، علامہ صنعانی اور امام شوکانی رحمہم اللہ نے طُرق کی کثرت کے پیشِ نظر اسے کم از کم حسن درجے کی قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی صحت و ضعف میں اختلاف کی بنا پر اس سے وضو کا وجوب تو ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ غسل دینے والے کے لیے غسل کا وجوب ثابت ہوتا ہے، تاہم بعض دیگر احادیث ایسی بھی ہیں، جن کی موجودگی میں جمع و تطبیق ضروری ہو جاتی ہے اور وہ اس حدیث میں جو امر ہے، اسے وجوب کے بجائے استحباب پر محمول کرنے کی گنجایش پیدا کرتی ہیں۔ علامہ صنعانی نے وضاحت کی ہے کہ میت کو اٹھانے سے مراد تکفین سے پہلے اس کے جسم کے اعضا سے کپڑا اٹھانا ہے اور اس صورت میں بھی [1] المنتقی مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۳۷) بلوغ المرام مع السبل (۱؍ ۱؍ ۶۹) المحلی (۱؍ ۱؍ ۲۲۵، ۲۲۶، ۱؍ ۲؍ ۲۳) و الإرواء (۱؍ ۱۷۳، ۱۷۵)