کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 44
یہ آخری حدیث تو ضعیف ہے، لہٰذا قابلِ استدلال نہیں اور پہلی صحیح احادیث میں غسل یا وضو میں استعمال ہونے والے پانی سے دوبارہ وضو کرلینے کی صراحت ہی نہیں ہے، بلکہ صراحت صرف اس بات کی ہے کہ وہ پانی پاک ہے، نجس نہیں، یعنی طاہر ہے۔ البتہ اس کے مطہر (دوسرے کو پاک کرنے والا) ہو نے کا واضح ثبوت نہیں۔ پھر مذکورہ واقعات میں سے سوائے ایک زوجۂ محترمہ کے ہاتھ ڈبونے والے واقعے کے، سب کے سب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے تعلق رکھتے ہیں، اگرچہ صریح دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو خصائصِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تو شمار نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔ [1] دوسرا مسلک: بعض دیگر احادیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے پانی سے غسل و وضو کرنے سے منع فرمایا ہے، جس سے ایک مرتبہ غسل یا وضو کیا جا چکا ہو، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پانی خود تو طاہر ہے، لیکن مطہر نہیں۔ یہ عام ائمہ اور علماے احناف، اسی طرح حنابلہ اور شافیعہ کا مسلک ہے۔ امام لیث رحمہ اللہ ، اوزاعی، مشہور مذہب کے مطابق امام ابو حنیفہ، ظاہری مذہب، امام شافعی رحمہم اللہ ، ایک روایت کے مطابق امام مالک رحمہ اللہ کا بھی مسلک یہی ہے اور امام احمد رحمہ اللہ سے معروف روایت میں یہی مسلک منقول ہے۔ [2] اس مسلک والوں کا استدلال بھی متعدد صحیح احادیث سے ہے۔ 1۔ ان کی پہلی دلیل وہ حدیث ہے، جو صحیح بخاری و مسلم، سنن ابی داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور سنن دارمی میں مروی ہے، جس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے میں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَا یَغْتَسِلُ أَحَدُکُمْ فِي الْمَآئِ الدَّائِمِ وَہُوَ جُنُبٌ، فَقَالَ: کَیْفَ یَفْعَلُ یَا أبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: یَتَنَاوَلُہٗ تَنَاوُلاً )) [3] [1] نیل الأوطار (۱؍ ۲۰) [2] المغني (۱؍ ۳۱) البدایۃ لابن رشید (۱؍ ۴۰) مؤسسہ ناصر و نیل الأوطار (۱؍ ۲۲۔ ۲۳) [3] صحیح مسلم مع شرحہ للنووي (۱؍ ۳؍ ۱۸۸۔ ۱۸۹ واللفظ لہٗ) صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۲۳۹) صحیح سنن أبي داود (۱؍ ۱۶) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۱۵) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۴۴) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۴۸) صحیح الجامع رقم الحدیث (۷۷۳۵)