کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 433
ذکر کیے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں انھوں نے اس جگہ لمس یا مس کا معنیٰ جماع ہی کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت علی، ابی بن کعب رضی اللہ عنہما ، امام مجاہد، طاؤس، حسن بصری، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہم اللہ سے بھی یہی معنیٰ مروی ہے۔ آگے لمس کو چھونے کے معنیٰ میں لینے والوں کا تذکرہ کرنے کے بعد امام ابن جریر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں لکھا ہے: ’’وَأَوْلٰی الْقَوْلَیْنِ فِيْ ذٰلِکَ بِالصَّوَابِ قَوْلُ مَنْ قَالَ عَنٰی اللّٰہُ بِقَوْلِہٖ: {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ} اَلْجَمَاعَ دُوْنَ غَیْرِہِ مِنْ مَعَانِيْ اللَّمْسِ لِصِحَّۃِ الْخَبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنَّہُ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَآئِہِ ثُمَّ صَلّٰی، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ‘‘[1] ’’ان دونوں مذکورہ اقوال میں سے صحیح تر قول انہی کا ہے، جو اس ارشادِ الٰہی {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ} میں لمس کو جماع سے کنایہ قرار دیتے ہیں اور لمس کے دوسرے معانی میں سے کوئی معنیٰ نہیں لیتے، ان کے قول کے صحیح تر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسا لینے کے بعد نماز پڑھی، مگر وضو نہیں کیا۔‘‘ پھر آگے وہ احادیث بھی ذکر کی ہیں، جو ہم بالتفصیل ذکر کر چکے ہیں۔ امام طبری رحمہ اللہ نے ’’جامع البیان عن تأویل آي القرآن‘‘ (۸/ ۵۱) میں سورۃ النساء (آیت: ۴۳) کی تفسیر بیان کی ہے۔ جب کہ صفحہ (۳۸۹ تا ۳۹۹) پر مسئلہ زیرِ بحث ہے۔ انھوں نے دونوں اقوال سے متعلقہ احادیث و آثار با سند ذکر کیے ہیں اور ترجیح اسی کو دی ہے کہ یہاں مس سے مراد جماع ہے اور محض چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔[2] تفسیرِ مجاہد: مولانا عبد الرحمن سورتی نے امام مجاہد رحمہ اللہ کی جو تفسیر جمع کی ہے اور حاکمِ قطر کے اخراجات پر شائع ہوئی ہے، اس (ص: ۱۵۹) میں تفسیر طبری کے حوالے سے امام مجاہداور حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ملا مست سے مراد جماع ہی لکھا ہے۔[3] [1] تفسیر ابن کثیر (۱؍ ۵۰۲، ۵۰۴) دار المعرفۃ، بیروت۔ [2] طبري (۸؍ ۳۸۹، ۳۹۹) [3] تفسیر مجاہد (ص: ۱۵۹) طبع قطر۔