کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 430
نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ کسی محرم عورت کے چھو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اگرچہ اس حدیث میں جوان عورت نہیں، بلکہ بچی کا ذکر ہے، چنانچہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّيْ وَھُوَ حَامِلٌ أُمَامَۃَ بِنْتَ زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَھَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَھَا )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو اسے بٹھا لیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔‘‘ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے بھی دیگر مسائل کے علاوہ اس حدیث سے اخذ کیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو چھونا وضو پر کوئی اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ عسقلانی رحمہ اللہ نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچی کو کپڑوں کے اوپر ہی سے چھوتے ہوں گے۔ لیکن یہ احتمال بھی بلاشبہہ تکلّفِ محض ہے، کیوں کہ امام بغوی کے بقول بچی کے جسم کا کوئی حصہ تو کپڑ ے کے بغیر بھی ہوگا، جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لگتا ہوگا، لہٰذا کپڑے وغیرہ کا حائل ہونا یہاں بھی ویسا ہی ہوا، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں ہے۔ یاد رہے کہ اسی حدیث والے امامہ رضی اللہ عنہا سے متعلق واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جب سجدے سے اٹھتے ہوئے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھا لیتے تھے تو اگر کسی کے سر سے ٹوپی گر جائے تو وہ بھی اٹھا کر سر پر رکھ سکتا ہے۔ ٹوپی یا عمامہ اٹھانا کیا حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھانے سے کوئی بڑا فعل ہے؟ ہر گز نہیں۔ ان تمام احادیث کی بنا پر حضرت علی، ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اور امام عطا، طاؤس، ثوری، مجاہد، حسن بصری، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ، مقاتل بن حیان، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہم اللہ کا مسلک یہ ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔[2] [1] صحیح البخاري (۱؍ ۵۹۰) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۵؍ ۳۱، ۳۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۱۱، ۸۱۲، ۸۱۳) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۶۸۷) شرح السنۃ للبغوي (۳/ ۲۶۵) [2] تفسیر الطبري (۸؍ ۳۸۹، ۳۹۲ بتخریج أحمد شاکر طبع مصر) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۴) فتح القدیر للشوکاني (۱؍ ۴۷۰ بیروت) عون المعبود (۱؍ ۳۰۲) تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۸۲)