کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 43
اخْتِی وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِیْ وَدَعَا لِیْ بِالْبَرَکَۃِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِہٖ )) ’’مجھے میری خالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرا یہ بھانجا بیمار ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنے دست مبارک کو پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ نے وضو فرمایا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو والے پانی سے پانی پیا۔‘‘ 7۔ سنن ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے آپ کے سامنے وضو کے لیے پانی کا برتن رکھا اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا: (( اِنِّی غَمَسْتُ یَدِیْ فِیْہَا، وَأَنَا جُنُبٌ )) ’’میں نے بہ حالتِ جنابت اس پانی میں اپنا ہاتھ ڈبویا ہے۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْمَائُ لَا یَجْنُبُ )) [1] ’’پانی جنبی نہیں ہوتا۔‘‘ نیز مسند احمد میں ہے: (( اَلْمَآئُ لَا یَنْجُسُ )) ’’پانی نجس نہیں ہوتا۔‘‘ 8۔ ایسے ہی ایک روایت، جو ضعیف ہے، سنن ابن ماجہ، دار قطنی اور مسند احمد میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (( اِغْتَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ جَنَابَۃٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَیٰ لَمْعَۃً عَلٰی مَنْکِبِہٖ الْأَیْسَرِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَآئُ، فَاَخَذَ مِنْ شَعْرِہٖ فَبَلَّہَا ثُمَّ مَضَیٰ اِلٰی الصَّلَاۃِ )) [2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما کر نکلے تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے۔ آپ نے اپنی زلفوں کو نچوڑا اور اس پانی سے اس جگہ کو گیلا کیا اور پھر نماز کے لیے چل دیے۔‘‘ [1] صحیح سنن أبي داود (۱؍ ۱۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۰) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۶۵) المغني (۱؍ ۳۱، ۳۳) النیل و المنتقیٰ (۱؍ ۲۶) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۱۹۲۷) [2] الفتح الرباني (۲؍ ۱۳۸) و المغني أیضاً۔