کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 426
سے مروی ہے، جس میں وہ بیان فرماتی ہیں: (( کُنْتُ أَنَامُ بَیْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَرِجْلَایَ فِيْ قِبْلَتِہٖ، فَإِذَا سَجَد غَمَزَنِيْ فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ )) ’’میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جاے سجدہ پر ہوتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو چوکا فرماتے، تب میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔‘‘ آگے اسی طرح سونے کی وجہ بیان کرتی اور فرماتی ہیں: (( وَالْبُیُوْتُ یَوْمَئِذٍ لَیْسَ فِیْھَا مَصَابِیْحُ )) [1] ’’ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔‘‘ اس حدیث کے اطراف کو امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں تیرہ مقامات پر لائے ہیں اور اس سے متعدد مسائل کا استنباط کیا گیا ہے۔ مثلاً: 1۔سب سے پہلے ’’کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علیٰ الفراش‘‘ کے تحت لائے ہیں کہ اپنے بستر پر نماز پڑھی جاسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ بستر سے مراد بیڈ یا چارپائی نہیں، زمین پر ڈالا ہوا بستر ہے۔ 2۔اسی سے یہ استدلال بھی کیا جاتا ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں کہ شاید اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاؤں ننگے نہ ہوں، بلکہ کوئی کپڑا حائل ہو یا پھر یہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہو، لیکن امام شوکانی رحمہ اللہ نے ان کے احتمالات کو ظاہری الفاظ کی خلاف ورزی اور تکلّفِ محض قرار دیا ہے۔[2] صحیح بخاری کے اسی باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سونے کے طریقے کی وضاحت بھی موجود ہے، جو حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے الفاظ میں یوں ہے: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّيْ، وَعَائِشَۃُ مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ، عَلَی الْفِرَاشِ الَّذِيْ یَنَامَانِ عَلَیْہِ )) [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۴۹۱) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۴؍ ۲۲۹) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۶۵۶، ۶۵۷، ۶۵۸) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۶۲) [2] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۵)