کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 421
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی صحیح مسلم کی حدیث ہے، جس کے الفاظ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث والے ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بعض اہلِ علم نے آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی رائے ہی اختیار کی ہے۔ کتاب الاعتبار حازمی کے حوالے سے تحفۃ الاحوذی میں اور حازمی کی طرح ہی امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں وضو کرنے کے قائلین میں سے متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اسماے گرامی بھی ذکر کیے ہیں، پھر امام شوکانی رحمہ اللہ نے خود بھی یہی موقف اختیار کیا ہے اور انہی کی پُرزورتائید کی ہے۔[1] جب کہ امام ترمذی کے بقول اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین و اہلِ علم کے نزدیک آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں ہے، محض مستحب ہے۔ ترکِ وضو کے قائلین میں چاروں خلفاے راشدین سمیت بیس معروف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، جمہور تابعین اور ائمہ اربعہ سمیت جمہور اہلِ علم، اہلِ حجاز اور اہلِ کوفہ رحمہم اللہ سب شامل ہیں۔[2] علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی اکثر اہلِ علم کے اس مسلک ہی کو راجح قرار دیا ہے کہ پکی ہوئی چیز کے کھانے کے بعد وضو ضروری نہیں ہے۔ ان کے دلائل میں سے ایک تو صحیح بخاری ومسلم میں اُمّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے، جس میں وہ بیان فرماتی ہیں: (( أَکَلَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّیٰ، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نئے سرے سے وضو کیے بغیر نماز ادا فرمائی۔‘‘ دوسری حدیث بھی صحیح بخاری ومسلم ہی میں حضرت عمر و بن امیّہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: (( رَأَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَحْتَزُّ مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ، فَأَکَلَ مِنْہَا، فَدُعِيَ إِلَی الصَّلاَۃِ [1] شرح صحیح مسلم (۲؍ ۴؍ ۴۳) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۱، ۲۰۸) تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۵۷) [2] تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۵۸) و نیل الأوطار (۱؍ ۲۰۸ مفصلاً) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۳۱۲) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۴؍ ۴۵)