کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 420
غیر نواقضِ وضو (جن اشیا سے وضو نہیں ٹوٹتا) وضو توڑنے والے ان دس امور کے بعد اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ امور بھی ذکر کر دیے جائیں، جن کے بارے میں شک ہو سکتا ہے کہ وہ نواقضِ وضو میں سے ہیں، بلکہ ان میں سے بعض کے بارے میں تو کچھ اہلِ علم نے ناقض ہونے کا کہا بھی ہے حالاں کہ تحقیقی نقطۂ نظر سے صحیح یہ ہے کہ وہ نواقضِ وضو نہیں ہیں۔ 1۔ آگ پر پکی ہوئی اشیا کا کھا نا: ان میں سے سب سے پہلے تو یہی آگ پر پکی ہوئی اشیا کا کھانا ہے، جس کا ذکر ضمنی طور پر چل رہا ہے۔ یہ شروع اسلام میں تو نواقض ہی میں سے تھا، کیوں کہ اس سلسلے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں: 1۔صحیح مسلم، سنن اربعہ اور مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (( تَوَضَّأُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ )) [1]’’ہر اس چیز کے بعد وضو کرو، جو آگ پر پکائی گئی ہو۔‘‘ 2۔اسی طرح صحیح مسلم، سنن نسائی، ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی الفاظ مروی ہیں اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس موضوع کی احادیث حضرت اُمّ حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابو طلحہ، ابو ایوب اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، جن میں سے پانچ کی تخریج علامہ مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں کی ہے، جن میں سے [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۴؍ ۴۳) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۷۸) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۶۸) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۶۵) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۸۵) صحیح ابن حبان (الموارد)، رقم الحدیث (۲۱۷) المنتقی مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۰۸)