کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 419
نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ مسئلہ تو صحیح ہے کہ آگ پر پکی اشیا کھانے کے بعد وضو کرنا واجب نہیں، جیسا کہ صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث میں یہ بات ثابت ہے، اس کی تفصیل بھی آگے چل کر آئے گی، اسی مسئلے کی دلیل یہ حدیثِ مذکور بھی ہے، جس سے اونٹ کے گوشت کے بعد وضو کے عدمِ وجوب پر استدلال صریح نہیں، بلکہ دور کی کو ڑی لانے کے مترادف ہے، جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام اور امام طحاوی و بیہقی رحمہ اللہ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے، جو ہم نے ( پچھلی سطور میں ) ذکر کیا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ حدیث عام ہے اور اونٹ کے گوشت کے بعد وضو کرنے کے حکم پر دلالت کرنے والی صحیح مسلم اور مسند احمدکی حدیث خاص ہے اور خاص کو عام پر مقدم رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ امام شافعی اور دیگر ائمہ اصول رحمہم اللہ کا مذہب ہے اور امام شوکانی نے اس اصول کو حق قرار دیا ہے۔[1] امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ’’المغني‘‘ میں لکھا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھا نے سے بہرحال وضو ٹوٹ جاتا ہے، پھر انھوں نے نقضِ وضو کی رائے کے راجح ہونے کے متعدد عقلی و نقلی اور اصولی دلائل ذکر کیے ہیں، جو جامعۃ الامام کی طرف سے شائع کردہ ’’المغني‘‘ (۱/ ۲۵۰، ۲۵۴) میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ موطا امام محمد رحمہ اللہ کے حاشیے ’’التعلیق الممجد‘‘ میں علامہ عبد الحی حنفی رحمہ اللہ نے بھی نقضِ وضو والے مسلک ہی کو قوی مذہب قرار دیا ہے۔[2] بعض اہلِ علم نے وضو کو واجب تو نہیں، البتہ مستحب قرار دیا ہے۔ بہر صورت وضو کرنا ہی زیادہ قرینِ احتیاط ہے۔  [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۲؍ ۴؍ ۴۹) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۱) [2] دیکھیں: تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۶۴) علامہ مبارکپوریa نے اس مقام پر بڑے اہم مباحث رقم کیے ہیں اور بذل المجہود کے حنفی مولف کی تردید کی ہے۔