کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 418
ہے۔ اگر ایسی کوئی روایت نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہوتی تو بھی ضروری تھا کہ اسے اونٹ کے علاوہ کسی دوسرے گوشت پر محمول کیا جاتا، تاکہ تعارض رفع کیا جاسکے۔ جب یہ آثار نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہیں تو انھیں دوسرے گوشت پر محمول کرنا بالاولیٰ واجب ہے، تاکہ ان کے اعمال کو شریعت کی موافقت پر محمول کیا جاسکے نہ کہ مخالفت پر، یہی وجہ ہے کہ امام طحاوی اور بیہقی رحمہ اللہ نے ان آثار کو ’’آگ سے پکی ہوئی چیزوں سے وضو کے باب‘‘ میں ذکر کیا ہے اور امام بیہقی نے سنن کبریٰ میں ’’اونٹ کے گوشت سے وضو کے باب‘‘ میں یہ آثار ذکر نہیں کیے، بلکہ وہاں صرف یہ کہا ہے کہ ہمیں حضرت علی و ابن عباس رضی اللہ عنہم سے یہ روایت پہنچی ہے: ’’اَلْوَضُوْئُ مِمَّا خَرَجَ وَلَیْسَ مِمَّا دَخَلَ، وَإِنَّمَا قَالَا ذٰلِکَ فِيْ تَرْکِ الْوُضُوْئِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ‘‘[1] ’’وضو خارج ہونے والی چیز سے ہے نہ کہ داخل ہونے والی چیز سے اور ان کا یہ کہنا آگ پر پکی چیزوں سے وضو نہ کرنے کے بارے میں ہے۔‘‘ 2۔پھر انھوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت بیان کی ہے کہ انھوں نے اونٹ کا گوشت کھایا اور وضو نہ کیا۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خودہی لکھا ہے کہ یہ اثر منقطع اور موقوف ہے اور کسی ایسی دلیل کی بنا پر اس بات کو ترک نہیں کیا جاسکتا، جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔[2] 3۔عدمِ وجوب کے قائلین کی تیسری دلیل سنن اربعہ، صحیح ابن خزیمہ اور ابن حبان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: (( کَانَ آخِرُ الْأَمْرَیْنِ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَرْکُ الْوُضُوْئِ مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں یہ تھا کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو [1] وقد ضعفہ الحافظ في التلخیص (۱؍ ۱؍ ۱۱۸) [2] القواعد النورانیۃ لابن تیمیۃ (ص: ۹) الطحاوي (۱؍ ۴۱) سنن البیہقي (۱؍ ۱۵۷) بحوالہ تمام المنۃ (ص ۱۰۵، ۱۰۶) [3] سنن أبي داود (۱؍ ۳۲۷) سنن الترمذي (۱؍ ۲۵۸) مفصلاً، و صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۷۹) و سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۸۹) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۶) مختصراً، موارد الظمآن، رقم الحدیث (۲۱۸، ۲۲۰، ۳۲۱) بألفاظ مختلفۃ۔