کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 414
-10زوالِ عقل یا بے ہوشی: نواقضِ وضو میں سے دسواں ناقض زوالِ عقل ہے، چاہے وہ کسی طرح بھی ہو اور کسی حالت میں بھی ہو، چنانچہ اس سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ نے ’’المنھاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج‘‘ میں لکھا ہے: ’’اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دیوانگی، غشی، شراب، نبیذ، بنج یا کلو رو فارم یا کسی بھی دوا سے نشہ ہونے پر عقل زائل ہونا یا بے ہوش ہو جانا ناقضِ وضو ہے۔ یہ بے ہوشی اور زوالِ عقل تھوڑے عرصے کے لیے ہو یا زیادہ وقت کے لیے ہو۔‘‘[1] امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’البحر الرائق‘‘ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نشے کاحکم بھی اکثر اہلِ علم کے نزدیک جنون و دیوانگی والا ہی ہے اور ’’سبل السلام شرح بلوغ المرام‘‘ میں علامہ صنعانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان امور کو نیند سے ملحق کیا گیا ہے۔ علامہ مغربی کی ’’البدر التمام شرح بلوغ المرام‘‘ (جو ’’سبل السلام‘‘ کی اصل ہے ) سے نقل کیا ہے کہ اہلِ علم کا ان امور کے ناقضِ وضو ہونے پر اتفاق ہے اور اگر یہ اتفاق کی بات صحیح ہے تو پھر ان کے ناقض ہونے کی دلیل اجماع ہے۔[2] علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے بھی موجباتِ وضو کے ضمن میں دیوانگی ، غشی اور نشے کو ذکر کیا ہے، مگر ان کے ناقض ہونے اور انھیں نیند پر قیاس کرنے اور اس کی دلیل اجماع ہونے کا انکار کیا ہے۔ [3] تاہم اس معاملے میں جیسا کہ ظاہر ہے، جمہور اہلِ علم کا قول ہی زیادہ قرینِ صواب ہے۔ -11 اونٹ کا گوشت کھانا: نواقضِ وضو میں سے گیارھواں اور آخری ناقض اونٹ کا گوشت کھانا ہے، اگرچہ جمہور اہلِ علم، خلفاے راشدین (چاروں) اور اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین اور ائمہ میں سے امام شافعی، امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا مسلک تو یہ ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن امام نووی رحمہ اللہ فرماتے [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۲؍ ۴؍ ۷۴) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۱) [2] سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۶۳) [3] المحلی لابن حزم (۱؍ ۱؍ ۲۲۱۔ ۲۲۲)