کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 411
جا سکتا ہے۔ لہٰذا وہ حدیث بھی موید نہ رہی۔ یوں معلوم ہوا کہ قولِ اوّل (نیند کے متعلق ناقضِ وضو ہونے کی رائے) ہی راجح ہے۔ البتہ یہاں اگر نیند اور اونگھ کے فرق کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس مسئلے میں پائے جانے والے بہت سارے اشکالات زائل ہو جاتے ہیں، چنانچہ فتح الباری میں لکھا ہے کہ جس کے حواس قائم رہیں، حتیٰ کہ وہ اپنے ساتھی کی بات سن سکتا ہو، مگر اس کا معنیٰ نہ سمجھ سکے تو یہ حالتِ اونگھ ہے اور اگر اس سے بھی بڑھ جائے (معنیٰ کجا بات بھی نہ سن رہا ہو) تو یہ حالت نیند ہے۔[1] امام خطابی کی ’’غریب الحدیث‘‘ سے نقل کرتے ہوئے صاحبِ ’’تمام المنۃ‘‘ لکھتے ہیں: ’’نیند کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک گہری غشی ہے، جو دل پر چھا جاتی ہے اور اسے ظاہر ی امور کی معرفت سے منقطع کر دیتی ہے، جبکہ اونگھنے والا شخص وہ ہے، جسے طبیعت کے بوجھل ہونے نے ایسا کر رکھا ہو کہ وہ احوالِ باطنہ کی معرفت سے قاصر ہو۔‘‘[2] مغفل کہتے ہیں: ’’السِّنَۃُ فِي الرَّأْسِ، وَالنَّوْمُ فِي الْقَلْبِ‘‘[3] ’’اونگھ کا اثر سر پر اور نیند کا اثر دل پر پڑتا ہے۔‘‘ نیند اور اونگھ کے اس فرق نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے کہ اونگھ کی وجہ سے اگر کسی کا سر جھک جائے اور اسے جھٹکا سا محسوس ہو تو ایسی او نگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اگر خفیف یا ہلکی سی نیند سے مراد یہی اونگھ ہو تو وہ مسئلہ بھی حل ہوگیا کہ کون سی ہلکی سی نیند غیر ناقض ہے۔ چنانچہ امام ابن المنذر نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’وَجَبَ الْوُضُوْئُ عَلٰی کُلِّ نَائِمٍ إِلَّا مَنْ خَفَقَ خَفْقَۃً‘‘[4] ’’ہر سونے والے پر وضو واجب ہے، سوائے اس کے جسے (او نگھ کی وجہ سے) جھٹکا لگے۔‘‘ یعنی اس پر وضو واجب نہیں۔ خفقہ یا جھٹکا کا معنیٰ ابن التین نے او نگھ ہی کیا ہے اور اہلِ لغت اونگھ میں سر کو حرکت دینے [1] فتح الباري (۱؍ ۳۱۴) [2] تمام المنۃ (ص: ۱۰۱) [3] غریب الحدیث بحوالہ تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۰۴) [4] دیکھیں: فتح الباري (۱؍ ۳۱۴)