کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 410
تعارض اور اس کاحل: حضرت صفوان رضی اللہ عنہ والی حدیث: (( وَلٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ )) کی روسے نیند مطلق ناقضِ وضو ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ والی حدیث کی روسے نیند مطلق ناقضِ وضو نہیں ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں باہم تضاد و تعارض واضح ہے، جسے اہلِ علم نے یوں حل کیا ہے کہ اوّلاً تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نیند سے اٹھ کر وضو نہ کرنا، اس بات کے امکان کا پتا دیتا ہے کہ یہ نیند سے وضو واجب ہونے کے حکم سے پہلے کا واقعہ ہوگا۔ لہٰذا علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کے بقول حدیثِ صفوان رضی اللہ عنہ اس پہلے حکم کو منسوخ کرنے والی ہے۔[1] اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان دونوں حدیثوں میں سے ایک (حدیثِ صفوان رضی اللہ عنہ ) صحیح سند والی اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہے، جب کہ دوسری حدیثِ انس رضی اللہ عنہ ایسی نہیں ہے۔[2] لہٰذا حضرت صفوان رضی اللہ عنہ والی حدیث پر عمل ہی اولیٰ ہے۔ البتہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں لکھا ہے کہ مطلق نیند کو ناقض ظاہر کرنے والی احادیث کو لیٹ کر سونے والی نیند پر محمول کیا جائے گا، پھر اس جمع و تطبیق کی تائید میں تین روایات بھی پیش کی ہیں، جنھیں ایک دوسرے کے لیے باعثِ قوت قرار دیاہے۔ علامہ مبارکپوری نے بھی ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ جب کہ محدث البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ وہ احادیث تینوں ہی اتنی ضعیف ہیں کہ ان کے مجموعے میں بھی کوئی قوت پیدا نہیں ہوتی اور نہ ان کا ضعف ہی زائل ہوتا ہے۔ لہٰذا انھوں نے جمع و تطبیق کی تردید کی ہے۔ اس کی تفصیل ’’نیل الأوطار‘‘ (۱/ ۱/ ۱۹۱) ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ (۱/ ۲۵۵) اور ’’تمام المنۃ‘‘ (ص: ۱۰۱، ۱۰۳) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ نیند اور اونگھ کا فرق و حکم: صرف لیٹ کر سونے والی نیند کے ناقض ہونے کی تائید کرنے والی امام شوکانی رحمہ اللہ کی پیش کردہ تینوں احادیث ضعیف ہیں، جیسا کہ اشارہ گزرا ہے اور صحیح بخاری و مسلم والی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث: (( إِذَا اُغْمِیْتُ یَأْخُذُ بِشَحْمَۃِ أُذُنِيْ )) میں ’’اُغْمِیْتُ‘‘ سے مراد گہری نیند ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ وہاں اونگھ مراد ہے، جیسا کہ ’’القاموس المحیط‘‘ میں ’’الإغماء‘‘ کا معنیٰ دیکھا [1] المحلی لابن حزم (۱؍ ۱؍ ۲۲۹) [2] تمام المنۃ (ص: ۱۰۰)