کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 408
ناقابلِ حجت ہے۔ دوسرے اس لیے کہ اس روایت میں اس بندے کو سجدہ ریز اس کی حالت وہیئت کی بنا پر یا پھر محض اوّل الامر والی طہارت کی بنا پر کہا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس طہارت کے باقی ہونے کی وجہ سے اسے سجدہ ریز قرار دیا گیا ہے۔[1] اسی مفہوم پر دلالت کرنے والی بعض دیگر روایات ہیں، جن کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’التلخیص‘‘ میں اور امام شوکانی نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں نقل کرکے انھیں ضعیف قرار دیا ہے۔ البتہ ایک روایت کی سند کو حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے جید کہا ہے، مگر وہ بھی مرفوع نہیں، بلکہ موقوف ہے، یعنی وہ الفاظ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں۔[2] پانچویں قول میں قلیل وکثیر میں فرق کیا گیا ہے، جس کی کوئی صریح دلیل ہے نہ قلیل و کثیر کا کوئی معیار ذکر کیا ہے کہ قلیل کیا ہے اور کثیر کیا ہے؟ چھٹے قول میں شافعیہ کے نزدیک نیند بہ ذاتِ خود تو ناقض نہیں، البتہ نقض کا ظن پیداکرنے والی چیز ہے ۔ ساتویں قول میں کہا گیا ہے کہ نیند مطلق ناقض ہے ہی نہیں، ان کا استدلال حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے ہے، جو صحیح مسلم اور سنن ابی داود میں مذکور ہے، جس میں وہ بیان فرماتے ہیں: (( إِنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَائَ فَیَنَامُوْنَ قُعُوْداً، ثُمَّ یُصَلُّوْنَ وَلَا یَتَوَضُئُوْنَ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشا کے وقت انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو جایا کرتے تھے، پھر وہ اٹھ کر نماز پڑھ لیتے اور دوبارہ وضو نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ سنن ابو داود کی روایت میں ’’علیٰ عہد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کے الفاظ بھی ہیں کہ یہ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے، مگر صحیح مسلم میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ ایک دوسری روایت جو صحیح سند کے ساتھ مسند بزار، محلیٰ ابن حزم اور مسائل الامام احمد لابی داود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں: [1] دیکھیں: سبل السلام (۱/ ۱؍ ۶۲) شرح صحیح مسلم للنووي (۲؍ ۴؍ ۱۷۳) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۲۱) النیل (۱؍ ۱؍ ۱۹۰۔ ۱۹۱) [2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۹۔ ۱۲۰) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۰) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲/ ۴/ ۷۳) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۸۴) فتح الباري (۱/ ۱/ ۳۱۵) التلخیص الحبیر (۱/ ۱/ ۱۱۹) عون المعبود (ص: ۳۳۹۔ ۳۴۰)