کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 403
ایسے ہی دیگر محدّثین کے نزدیک بھی یہ واجب ہے کہ شرعی الفاظ کو ان کے شرعی معانی پر محمول کیا جائے نہ کہ لغوی مفہوم پر، پھر سنن بیہقی اور محلیٰ ابن حزم میں حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے اور سنن دارقطنی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث میں: (( فَلْیَوَضَّأْ وُضُوْئَ ہٗ لِلصَّلَاۃِ )) کے الفاظ ہیں، جن کا معنیٰ یہ ہے کہ ’’وہ نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو کرے۔‘‘[1] 5۔حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہ کی ترجیح کی وجوہات میں سے پانچویں وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، جسے امام حازمی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ صحیح سند کے ساتھ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے شرم گاہ کو چھونے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ آدابِ استنجا میں حدیث گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرم گاہ عام اعضاے جسم، انگوٹھے، ناک اور کان کی طرح نہیں ہوسکتی۔ اگر ایسی ہی ہوتی تو پھر اسے چھونے میں کوئی حرج نہیں تھا، لیکن ایسا نہیں ہے۔[2] ان پانچوں وجوہاتِ ترجیح کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ جمہور اہلِ علم کا مسلک ہی راجح ہے کہ مسِ فرج پر وضو وجوباً کیا جائے اور اسی میں احتیاط بھی ہے۔ بچے کا پاخانہ دھونا: فرج کے معاملے میں مرد و زن، بچے بڑے، محرم و غیر محرم، اپنے پرائے اور زندہ یا مردہ کا بھی کوئی فرق نہیں، جس کی تفصیل علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب ’’المحلیٰ‘‘ (۱/ ۱/ ۲۳۵) اور امام محمد بن سعود رحمہ اللہ اسلامک یو نیورسٹی ریاض کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی اور ان کے ایک ساتھی کی تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع ہونے والی امام ابن قدامہ کی کتاب ’’المغني‘‘ (۱/ ۲۴۰، ۲۴۴) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جب شہوت کا داعیہ بھی شامل ہو تو پھر اس سے نقضِ وضو اور بھی متاکّد ہوجاتا ہے، حتیٰ کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور شیخ البانی رحمہ اللہ جیسے کبار اہلِ علم نے تو اسی داعیے کو پیشِ نظر رکھ کر حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا اور حدیثِ طلق رضی اللہ عنہ میں تطبیق و مطابقت پیدا کی ہے کہ حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہ میں اس داعیے کا دخل نہیں، جب کہ حدیثِ طلق رضی اللہ عنہ : (( إِنَّمَا ھُوَ بُضْعَۃٌ مِّنْکَ )) کے الفاظ میں ایک لطیف اشارہ موجود ہے، جو اس داعیے کی موجود گی میں وضو ٹوٹنے کا پتا دیتا ہے۔[3] [1] المحلی و تحقیقہ لأحمد شاکر (۱؍ ۲۳۹) و تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۷۶) [2] تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۷۹) مختصراً [3] تمام المنۃ (ص: ۱۰۳) و تحقیق مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۰۳۔ ۱۰۴)