کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 40
پانی سے غسل کیا، جس میں آٹے کا اثر نظر آرہا تھا۔‘‘ ان دونوں حدیثوں میں مذکور پانی میں پاک اشیا کی ملاوٹ پائی گئی۔ اس کے باوجود نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عملِ مبارک سے اسے مطہّر قرار دیا ہے، البتہ اہلِ علم نے یہ شرط لگائی ہے کہ کسی پاک چیز کی آمیزش اتنی زیادہ نہ ہو کہ وہ پانی کو مطلق پانی کی حدود ہی سے نکال دے۔ ہاں، جب تک وہ مطلق پانی کی حدود میں رہے گا، طاہر و مطہّر رہے گا، لیکن اگر اس کا پوری طرح رنگ ہی بدل گیا تو وہ مطلق پانی کی تعریف سے نکل جائے گا، تب وہ طاہر تو ہے مگر مطہر نہیں ہوگا اور اس سے غسل و وضو صحیح نہیں ہوگا۔ البتہ اس سے برتن اور کپڑے وغیرہ دھوئے جا سکتے ہیں۔ 2۔مستعمل پانی: غیر مطلق پانی کی دوسری قسم وہ پانی ہے، جو غسل یا وضو میں ایک مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہو۔ اسے ’’مستعمل پانی‘‘ کہا جاتاہے۔ اس پانی کے طاہر و مطہر یا محض طاہر ہونے میں اہلِ علم میں اختلاف پا یا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے ایسے پانی کو طاہر اور مطہر قرار دیا ہے کہ اس سے دوبارہ بھی غسل و وضو کیا جا سکتا ہے، جبکہ بعض دیگر اہلِ علم کے نزدیک مستعمل پانی طاہر تو ہے، مگر مطہر نہیں ہے۔ پہلا مسلک: مستعمل پانی کا طاہر و مطہر ہونا مالکیہ اور ظاہریہ کا مسلک ہے۔ البتہ مالکیہ کے نزدیک دوسرے پانی کے ہوتے ہوئے مستعمل پانی سے غسل یا وضو کرنا مکروہ ہے اور مستعمل کی موجودگی میں تیمم کرنا منع ہے۔ امام حسن بصری، زہری اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام ابن قدامہ اور امام شوکانی رحمہ اللہ کے بقول ایسے پانی کے بارے میں امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام شافعی رحمہم اللہ سے دو الگ الگ روایتیں ملتی ہیں۔ ایک میں طاہر و مطہر اور دوسری میں صرف طاہر کہا گیا ہے۔ علامہ ابن حزم کے حوالے سے امام شوکانی اور یہی ابن قدامہ نے بھی لکھا ہے کہ ’’امام عطاء، سفیان ثوری اور ابو ثور کا بھی یہی مسلک ہے۔‘‘ [1] مستعمل پانی کو طاہر و مطہر قرار دینے والوں کا استدلال متعدد احادیث سے ہے۔ مثلاً صحیح [1] المغني (۱؍ ۳۱) تفسیر القرطبي (۷؍ ۱۳ ؍ ۴۸) فتح الباري (۱؍ ۲۹۶) البدایۃ (۱؍ ۴۰) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۳)