کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 398
’’کیا وہ اسی کا ایک حصہ نہیں ہے۔‘‘ گویا استفہامِ انکاری سے واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ بھی تو جسم کا ایک حصہ ہی ہے، لہٰذا اس کو چھو نے پر وضو کیوں؟ امام ابن حبان، طبرانی اور ابن حزم نے اس حدیث کو بھی صحیح قرار دیا ہے، بلکہ فلاس، علی بن مدینی اور طحاوی نے اس حدیث کو حدیثِ بسرہ سے احسن قرار دیا ہے، جب کہ امام شافعی، ابو حاتم، ابو زرعہ، دارقطنی، بیہقی اور ابن الجوزی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے اور امام ابن حبان، طبرانی، ابن العربی، حازمی اور دیگر ائمہ نے اس حدیث کو حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے منسوخ قرار دیا ہے۔[1] امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسی مفہوم کی ایک اور حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، جو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے، مگر اس کی سند میں دو راوی متکلم فیہ ہیں۔ ایک جعفر بن زبیر ہے، جس کو متروک قرار دیا گیا ہے اور دوسرا راوی قاسم ہے، جو ضعیف ہے، حتیٰ کہ خود امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ امام بخاری، نسائی اور دار قطنی نے جعفر بن زبیر کو متروک قرار دیا اور قاسم ضعیف ہے۔ شیخ محمد فواد عبدالباقی اور علامہ بوصیری کے بقول اس حدیث کی سند میں جعفربن زبیر ہے، جس کی مروی حدیث کو ترک کرنے پر محدّثین کا اتفاق ہے اور ان کے نزدیک وہ متہم ہے۔ اسی موضوع کی ایک تیسری روایت حضرت عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، مگر اسے بھی امام زیلعی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔[2] تو گویا اس موضوع کی صرف ایک ہی حدیث ہے، جسے بعض محدّثین نے صحیح اور بعض نے ضعیف قرار دیا ہے۔ مسلکِ اوّل کی ترجیح کی وجوہات: پہلے مسلک کی تائید میں حضرت بسرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی صحیح اور صالح احادیث موجود ہیں، جن کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے۔ اگر اس اختلافِ رائے کو صرف دو حدیثیں سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ایک طرف حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا ہے اور دوسری طرف حدیثِ طلق رضی اللہ عنہ ۔ [1] التلخیص لابن حجر (۱؍ ۱؍ ۱۲۵) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۸) التحفۃ (۱؍ ۲۸۰) [2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سنن الترمذي مع تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۲۷۵) سنن ابن ماجہ بتحقیق محمد فؤاد (۱؍ ۱۶۳)