کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 396
’’جو مرد اپنی شرم گاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے اور جو عورت اپنی شرم گاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔‘‘ ترمذی کی کتاب العلل کے حوالے سے امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں لکھا ہے کہ اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’وھذا عندي صحیح‘‘ ’’یہ حدیث میرے نزدیک صحیح ہے۔‘‘ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے ’’المحلیٰ‘‘ (۱/ ۱/ ۲۳۸) میں کہا ہے کہ شرم گاہ صرف قُبل ہی ہے، دُبرنہیں۔ لیکن امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں اس نظریے کی تردید کی اور کہا ہے کہ قبل ہو یا دُبر، دونوں ہی شرم گاہ (فرج) ہیں۔ ایک حدیث سے اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ اگر کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو، تب وضو ٹوٹتا ہے، ورنہ نہیں، یعنی اگر کپڑے کے اوپر سے ہاتھ لگ جائے تو یہ ناقضِ وضو نہیں ہے، جیسا کہ صحیح ابن حبان، مسند احمد، مستدرکِ حاکم، سنن بیہقی اور معجم طبرانی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَنْ أَفْضَیٰ بِیَدِہٖ إِلٰی ذَکَرِہٖ لَیْسَ دُوْنَہٗ سِتْرٌ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوْئُ )) [1] ’’جس نے اپنا ہاتھ کسی رکاوٹ کے بغیر قضیب تک پہنچایا تو اس پر وضو واجب ہے۔‘‘ ’’الإفضاء‘‘ کے لفظ سے استدلال کرتے ہوئے شافعیہ نے کہا ہے کہ وضو صرف تب ٹوٹے گا، جب شرم گاہ کو صرف ہاتھ کی اندرونی جانب ہتھیلی کی جانب سے چھوا گیا، لیکن علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے ان کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ہاتھ کی اندرونی اور بیرونی دونوں جانب کے لیے برابر ہے اور شوافع کی یہ تفریق قرآن و سنت، اجماعِ امت، کسی صحابی کے قول، قیاس اور صحیح رائے کسی سے بھی ثابت نہیں۔[2] اسی موضوع کی دیگر احادیث کی تخریج حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’التلخیص الحبیر‘‘ میں، امام ترمذی نے اپنی سنن میں اور علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ میں کر دی ہے۔ لہٰذا [1] موارد الظمآن (۲۵، ۲۷) رقم الحدیث (۲۱۰) المنتقی (۱؍ ۱؍ ۱۹۹) و الصحیحۃ (۳؍ ۲۳۷) صحیح الجامع (۳۶۲) [2] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۹۹) محلی ابن حزم (۱؍ ۱؍ ۲۳۷۔ ۲۳۸) التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۲۶)