کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 393
’’ودی جو پیشاب کے بعد ہوتی ہے، اس پر صرف وضو ہی ہے۔‘‘ (یعنی استنجا و وضو ہے غسل واجب نہیں ہے)۔‘‘ جریان اور لیکوریا، یا سیلان الرحم: یہاں یہ بھی واضح کر دیں کہ بعض مرد وں کو سلس المذی کا مرض ہوتا ہے کہ انھیں مذی کے قطرات مسلسل آتے رہتے ہیں، جسے ’’جریان‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس بیماری والے مردوں کو بھی استحاضہ والی عورت کے حکم میں شمار کیا گیا ہے، لہٰذا ان پر بھی غسل نہیں، بلکہ محض استنجا اور وضو لازم ہے۔[1] جو وہ ہر نماز کے ساتھ کریں گے۔ یہ ایک وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں ادا نہیں کر سکتے اور بالائی کپڑوں کو صاف رکھنے کے لیے انڈرویئر استعمال کریں، جیسا کہ تقطیر البول یا سلس البول کے ضمن میں ذکر گزر چکا ہے۔ مردوں کی اس بیماری کی طرح بعض عورتوں کو بھی ایسی ہی بیماری ہوتی ہے، جسے سیلان الرحم یا لیکوریا کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا خواتین کی شرم گاہ سے ایک سفید رطوبت سی خارج ہوتی رہتی ہے۔ اس کا حکم بھی استحاضے اور جریان والا ہی ہے کہ ایسی خواتین ہر نماز کے ساتھ نیا وضو کر لیا کریں اور کپڑوں کی نظافت و طہارت کا اہتمام رکھیں۔ سلس الاحتلام: ایک اور صورت جس کا نواقضِ وضو سے تو تعلق نہیں، البتہ ہمارے موضوع کے قریبی متعلقات میں سے ہے، وہ صور ت یہ ہے کہ کسی کو سلس الاحتلام کا مرض ہو اور ہر رات سونے میں بدخوابی ہو جاتی ہو تو ایسا شخص اٹھ کر غسل کرے، یہ اس پر واجب ہے اور پھر نمازیں وغیرہ ادا کرتا رہے، جو عام فہم سی بات ہے اور اگر وہ حج کرنا چاہے تو بھی ممکن اور جائزہے، اس کی صورت بھی حیض والی عورت کی طرح ہے مگر اس بیماری والاشخص روزانہ غسل کرلیا کر ے اور تمام اعمالِ حج میں شامل رہے اور طہارت کی حالت میں طواف بھی کر لیا کرے۔[2] [1] فتح الباري (۱؍ ۳۸۱) [2] فتاویٰ علماے حدیث (۱/ ۷۰۔ ۷۱)