کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 391
دھونے کا ذکر ہے۔ یہ مسئلہ توفی ذاتہٖ صحیح ہے، کیوں کہ دوسری روایت سے ثابت ہے، البتہ ان دونوں میں سے پہلی روایت مطعون ہے، کیوں کہ وہ ’’عروۃ عن علي‘‘ کے سلسلۂ سند سے مروی ہے جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عروہ کا سماع یعنی حدیث سننا ثابت نہیں، جیسا کہ امیر صنعانی نے ’’سبل السلام‘‘ میں لکھا ہے۔[1] لیکن علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’معالم السنن‘‘ کی تہذیب میں ذکر کیا ہے کہ خصیوں کے لفظ والی حدیث صحیح ابو عوانہ میں مروی ہے اور اس کی سند میں عروہ بھی نہیں، بلکہ وہ متصل سند ہے۔[2] ’’التلخیص الحبیر‘‘ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عبیدہ عن علی کی سند والی حدیث پرکوئی طعن نہیں ہے اور حضرت عبد اللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ والی دوسری حدیث کی سند کو بھی ضعیف کہا گیا ہے، اگرچہ امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔[3] امام ترمذی رحمہ اللہ کا اسے حسن قرار دینا غالباً شواہد کی بنا پر ہوگا اور صحیح ابی عوانہ والی حدیث اس کی بہتر ین شاہد ہے اور بقول امیر صنعانی، جب مجموعی طور پر حدیث کی صحت ثابت ہوگئی تو پھر اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہونا چاہیے۔ ’’فتح الباري‘‘ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خصیوں کو دھونے کی حکمت یہ ذکر کی ہے کہ اس طرح پانی کی برودت اور ٹھنڈک کے نتیجے میں مذی کا خروج رک جائے گا۔ گویا یہ ایک طبی نقطہ ہے۔[4] ان احادیث میں مذکور ’’دھونے‘‘ کے لفظ سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مذی کو پیشاب پر محمول نہیں کیا جا سکتا کہ صرف ڈھیلے کے استعمال ہی پر کفایت کی جاسکے، بلکہ اس کے لیے پانی سے استنجا کرنا ہی ضروری ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں تو اسے ہی صحیح کہا ہے، جب کہ دوسری کتب میں اسے بھی پیشاب پر محمول کرتے ہوئے ڈھیلے کے استعمال کو کافی لکھا ہے، لیکن فتح الباری کے محقق شیخ ابن باز اور دیگر علما نے سنن ابی داود اور مسند احمدوالی حدیث کے پیشِ نظر مذی کو دھونے کے ساتھ خاص کرنے میں امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ کے قول کی [1] سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۶۵) [2] تھذیب السنن (۱؍ ۱۴۸۔ ۱۴۹) [3] التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۱۱۷) [4] سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۶۵) فتح الباري (۱؍ ۳۸۱)