کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 39
صرف امام زہری رحمہ اللہ سے کچھ اختلاف منقول ہے۔ ان کے نزدیک یہ پانی پاک و طاہر ہے، مگر مطہر نہیں، یعنی اس سے غسل و وضو نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ [1] ان کا یہ مسلک جمہور اہلِ علم میں منفرد ہونے اور حدیثِ شریف کے موافق نہ ہونے کی وجہ قابلِ قبول نہیں، کیوں کہ صحیح بخاری و مسلم، سنن اربعہ اور دیگر کتبِ حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر ان کے غسل و کفن کا واقعہ مذکور ہے، جس کے ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( إِغْسِلْنَھَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْساً أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ۔إِنْ رَأَیْتُنَّ۔ بِمَائٍ وَ سِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِيْ الْأَخِیْرِۃِ کَافُوْرًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُوْرٍ )) [2] ’’انھیں تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اور اگر مناسب ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دو اور آخری مرتبہ غسل دیتے وقت پانی میں کافور بھی ملا لینا۔‘‘ معلوم ہواکہ کافور اور بیری کے پتوں والے پانی کا اگرچہ معمولی سا رنگ بدل جاتا ہے، مگر اس کے باوجود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طاہر و مطہّر ہی قرار دیا ہے، کیوں کہ میت کو غسل صرف اسی پانی سے دیا جا سکتا ہے، جس سے زندہ آدمی کا بھی غسل و وضو کرنا صحیح ہو۔ اس کے علاوہ سنن نسائی و ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، ابن خزیمہ، سنن بیہقی اور مسندِ احمد میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم اِغْتَسَلَ ھُوَ وَ مَیْمُوْنَۃُ مِنْ إِنَائٍ وَّاحِدٍ (قَصْعَۃٍ، وَفِي رِوَایَۃٍ: جَفْنَۃٍ) فِیْہَا اَثَرُ الْعَجِیْنِ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے برتن والے [1] المغني (۱؍ ۶۵) [2] التجرید الصریح (۱؍ ۹۳) صحیح مسلم مترجم اردو (۱، ۲؍ ۳۷۹) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۶۹۴) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۷۷۷، ۱۷۷۸) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۷۸۹) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۴۵۸) [3] صححہ الألباني في الارواء (۱؍ ۶۴) و صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۳۴) و صحیح سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۷۸)