کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 388
اسی طرح: (( اَلْحَیَائُ لَا یَأْتِيْ إِلَّا بِخَیْرٍ ))[1]’’حیا کا نتیجہ بھلا ئی ہی ہے۔‘‘ سے بھی وہی حیا مراد ہے۔ اگر کہیں ایسی صورتِ حال ہو کہ گناہ کا ارتکاب کرتے وقت حیا دامن گیر ہو اور وہ گناہ سے رک جائے تو یہ قابلِ تعریف حیا ہے، جو اسلام میں مطلوب ہے، لیکن اگر حیا نام کا جذبہ کسی شرعی امر کے ترک کرنے کا موجب بن رہا ہو تو وہ حیا شرعی نہیں، بلکہ حیا کے نام سے ضعف و مداہنت ہے، جو قابلِ مذمت ہے اور اس کی حدود دراصل کبر و نخوت سے جا ملتی ہیں۔ اس شرم و تکبر سے ملے جلے جذبۂ مذمومہ کا نتیجہ حصولِ علم سے پہلو تہی، بلکہ محرومی تک پہنچ جاتا ہے۔ صحیح بخاری کے ایک ترجمۃ الباب میں تعلیقاً اور ’’حلیۃ الأولیاء لأبي نعیم‘‘ میں صحیح سند سے موصولاً مروی حضرت امام مجاہد رحمہ اللہ کا ارشاد ہے: ’’لَا یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْیٍ وَّلَا مُتَکَبِّرٌ‘‘[2] ’’شرم و حیا اور تکبر کرنے والا شخص علم نہیں سیکھ سکتا۔‘‘ جن لوگوں کو علمِ دین کا حصول اور روز مرہ زندگی کے مسائل کی معرفت عزیز تھی، وہ مرد تو کجا عورتیں تک خود ایسے ایسے مسائل پوچھ لیا کرتی تھیں کہ آج واقعی وہ ان کی بڑی جراَت معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ جراَت مذموم بھی نہیں تھی، بلکہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی تعریف کی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں تعلیقاً اور صحیح مسلم میں موصولاً مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’نِعْمَ النِّسَآئُ نِسَآئُ الْأَنْصَارِ، لَمْ یَمْنَعْھُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَّتَفَقَّھْنَ فِي الدِّیْنِ‘‘[3] ’’بہترین عورتیں انصارِ مدینہ کی عورتیں ہیں۔ (نام نہاد) حیا نے انھیں تفقہ فی الدین (علمِ دین) کے حصول سے نہیں روکا۔‘‘ رضي اﷲ عنہن و أرضا ھن۔ امید ہے کہ بات پوری واضح ہوگئی ہوگی، تو آئیے اب آگے چلتے ہیں۔ [1] فتح الباري (۱؍ ۷۴۔ ۷۵) [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۲۸) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۲۸) مختصر صحیح مسلم للمنذري، رقم الحدیث (۷۱۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۰۸) و سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۶۴۲)